اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 355
839 355 اصحاب بدر جلد 4 اس کا نہایت سختی سے محاصرہ کیا یہاں تک کہ وہ تنگ آگیا اور اس نے پیغام بھیجا کہ مجھے اور نو اور آدمیوں کو امان دے دیں تو قلعہ کا دروازہ کھول دوں گا۔حضرت زیاد نے کہا معاہدہ لکھ کر لے آؤ میں اس پر مہر ثبت کر دوں گا۔اس کے بعد انہوں نے دروازہ کھولا۔بعد میں جب معاہدہ دیکھا گیا تو باقی نو آدمیوں کے نام تو لکھے ہوئے تھے مگر اشعث اپنا نام لکھنا بھول گیا تھا۔چنانچہ اسے دوسرے قیدیوں کے ساتھ مدینہ اپنانام کہ منورہ بھجوا دیا گیا۔838 ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو بیاضہ بن عامر سے تھا۔آپ کی نسل مدینہ اور بغداد میں مقیم تھی۔ان کے بارے میں صحاک بن نعمان بیان کرتے ہیں کہ مسروق بن وائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وادی عقیق سے مدینہ آئے۔( عرب میں کئی وادیوں، کانوں اور دوسری جگہوں کا نام عقیق ہے۔سب سے مشہور وہ وادی عقیق ہے جو مدینہ کے عین مغرب سے گزرتی ہے۔بہر حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ سے مکہ جانے والی سڑک اسی عقیق سے ہوتی ہوئی ذُو الحلیفہ پہنچتی تھی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آج کل کا راستہ بھی یہی ہے ) اور اسلام قبول کیا اور اسلام پر عمدگی سے قائم رہے۔آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں چاہتا ہوں کہ آپ میری قوم میں ایک ایسے آدمی کو بھیجیں جو انہیں اسلام کی طرف بلائے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھیجا۔840 حضرت زیاڈ اکتالیس ہجری میں حضرت معاویہ کے دور حکومت کے شروع میں فوت ہوئے۔طبرانی کہتے ہیں کہ حضرت زیاد کوفہ میں رہے اور مسلم اور ابنِ حبان کہتے ہیں کہ آپ شام میں رہے۔ابن حبان کہتے ہیں کہ آپ فقہاء صحابہ میں سے تھے۔841 حضرت زیاد بن لبید بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر فرمایا اور فرمایا یہ بات علم اٹھ جانے کے وقت ہو گی۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! علم کیسے چلا جائے گا اور ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو قیامت کے دن تک اسے پڑھائیں گے۔جب قرآن جاری رہے گا تو پھر کس طرح علم اٹھ جائے گا۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تیر ابھلا کرے اے زیاد! میں تمہیں مدینہ کے سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔کیا یہود اور نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے جو ان دونوں میں ہے لیکن اس کی کسی بات پر عمل نہیں کرتے۔842 علم اس وقت اٹھ جائے گا جب قرآن پڑھیں گے تو سہی لیکن مسلمان عمل نہیں کریں گے اور یہی کچھ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔پھر یزید بن عبد اللہ بن محیط سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے عکرمہ بن ابو جہل کو پانچ