اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 323

تاب بدر جلد 4 323 رسول اللہ صلی علیکم کے ہمراہ تھے۔آپ کے دو بھائی تھے خلاد بن رافع اور مالک بن رافع۔یہ بھی غزوہ بدر میں شامل تھے۔766 اہل بدر کا مقام اور حضرت جبرئیل حضرت معاذ نے اپنے باپ حضرت رفاعہ بن رافع سے روایت کی ہے اور ان کے باپ اہل بدر میں سے تھے ، انہوں نے کہا کہ جبرئیل نبی صلی علیکم کے پاس آئے اور کہا آپ مسلمانوں میں اہل بدر کو کیا مقام دیتے ہیں ؟ آپ صلی تعلیم نے جواب دیا کہ بہترین مسلم یا ایسا ہی کوئی کلمہ فرمایا۔حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا اور اسی طرح وہ ملائکہ بھی افضل ہیں جو جنگ بدر میں شریک ہوئے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔767 ملائکہ کس طرح جنگ میں شریک ہوئے ؟ حضرت سید زین العابدین شاہ صاحب نے بخاری کی جو شرح لکھی ہے بخاری کی اس میں ان فرشتوں کے شریک ہونے کے حوالے سے جو وضاحت بیان کی ہے وہ اس طرح ہے کہ " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِذْ يُوحَى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَكَةِ إِنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَألْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانِ (الانفال :13) " یہ وہ وقت تھا " جب تیر ارب ملائکہ کو بھی وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔پس مؤمنوں کو ثابت قدم بناؤ۔میں کفار کے دلوں میں رعب ڈالوں گا۔" پس اے مومنو " تم ان کی گردنوں پر حملے کرتے جاؤ اور ان کے پور پور پر ضربیں لگاتے جاؤ۔ضرب الاعناق، ضرب الرقاب اور ضَرَبُ كُلّ بنان“ سے مراد زور دار حملہ ہے جس میں نشانے کی صحت ملحوظ ہو۔" اس سے ملتی جلتی دو تین روایتیں ہیں ان کے بارے میں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " روایات زیر باب میں فرشتوں کی موجودگی اور مشاہدے کا جو ذکر ہے وہ از قبیل مکاشفات ہے۔" یعنی مکاشفہ کی صورت میں ہے " اور ان کی جنگ بھی اسی قسم کی ہے جو اُن کے مناسب حال ہے۔یعنی جو فرشتوں کے مناسب حال جنگ ہوتی ہے وہ ہے " نہ تیر و تفنگ کی۔" فرشتوں نے کوئی تیر اور تلواریں نہیں اٹھائی تھیں۔" اور ان کا مشاہدہ روحانی بینائی سے ہوتا ہے، نہ جسمانی آنکھ سے۔نبی کریم صلی علیم نے بھی مشاہدہ فرمایا اور صحابہ کرام نے بھی اور ایسا مشاہدہ اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے۔"کہ ملائکتہ اللہ کس طرح لڑتے ہیں "ملائکۃ اللہ ہی کے تصرف میں سے تھا یہ وضاحت شاہ صاحب کرتے ہیں " کہ عمائد قریش واقعہ نخلہ سے مشتعل ہو کر اپنے طیش میں آپے سے باہر ہو گئے اور یہی واقعہ بعد کی جنگوں کا ایک سبب بنا جن میں کفار قریش کی ہلاکت سے متعلق تقدیر الہی پوری ہوئی۔ملائکتہ اللہ کا طریق کار ہمارے طریقہ کار سے جدا اور ان کا اسلوب جنگ ہمارے اسلوب جنگ سے نرالا ہے۔بدر کے مقام پر دشمن کا عقنقل "تو ده ریگ" کے فراز میں پڑاؤ کرنا " وہ اونچائی پر تھے نبی کریم صلی للہ علم کا نشیب وادی میں اترنا اور صحابہ کرام کی قلیل تعداد کا دشمن کی نظر سے اوجھل رہنا، بادوباراں کا ظہور ، ( بارش ہو گئی۔اس کا ظہور ہونا) صحابہ کرام کا ایک ایک تیر کا اپنے نشانے پر ٹھیک