اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 299
ناب بدر جلد 4 299 نے اپنا انتقام پالیا۔اب میرا بیٹا اس کے پاس ہے ، استرا اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ تو انتقام لے لے گا۔یہ میں نے کیا کر دیا ! میں نے اس بچے کے ہاتھ استرا بھیج دیا ہے۔خبیب اس بچے کو استرے سے قتل کر دے گا اور پھر کہے گا کہ مرد کے بدلے مرد۔روایت تو یہ آتی ہے کہ بچہ کھیلتا ہوا ان کے پاس چلا گیا ان کے ہاتھ میں استر اتھا لیکن ایک روایت یہ اس طرح ہے جو تفصیل سے ہے کہ بچہ ہوش و حواس میں تھا اور اس قابل تھا کہ اس کے ہاتھ کوئی چیز بھجوائی جاسکے اور وہ انہوں نے بھجوایا۔تو وہ کہتی ہیں کہ جائے گا تو کہہ دے گا کہ ٹھیک ہے تم میرا قتل کر رہے ہو تو میں بھی یہ قتل کر دیتا ہوں۔پھر جب میرا بیٹا ان کے پاس استر الے کر پہنچا تو انہوں نے وہ لیتے ہوئے مزاحاً اس بچے کو کہا کہ تو بڑا بہادر ہے۔کیا تمہاری ماں کو میری غداری کا خوف نہیں آیا اور تمہارے ہاتھ میرے پاس استرا بھجوا دیا جبکہ تم لوگ میرے قتل کا اردہ بھی کر چکے ہو۔حضرت ماویہ بیان کرتی ہیں کہ خبیب کی یہ باتیں میں سن رہی تھی۔میں نے کہا اے خبیب! میں اللہ کی امان کی وجہ سے تم سے بے خوف رہی اور میں نے تمہارے معبود پر بھروسا کر کے اس بچے کے ہاتھ تمہارے پاس استرا بھجوایا۔میں نے وہ اس لیے نہیں بھجوایا کہ تم اس سے میرے بیٹے کو قتل کر ڈالو۔حضرت خبیب نے کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ اس کو قتل کروں۔ہم اپنے دین میں غداری جائز نہیں سمجھتے۔وہ بتاتی ہیں کہ پھر میں نے خبیب کو خبر دی کہ لوگ کل صبح تمہیں یہاں سے نکال کر قتل کرنے والے ہیں۔پھر یہ ہوا کہ اگلے دن لوگ انہیں زنجیر میں جکڑے ہوئے تنظیم ، مکے سے مدینے کی طرف تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے وہاں لے گئے اور خبیب کے قتل کا تماشا دیکھنے کے لیے بچے، عور تیں، غلام اور کتے کے بہت سارے لوگ وہاں پہنچے اور اس روایت کے مطابق کوئی بھی مکے میں نہ رہا۔جو انتقام چاہتے تھے ، جو اپنے بڑوں کے قتل کا بدلہ لینا چاہتے تھے جو جنگ میں مارے گئے تھے وہ تو اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے اور جنہوں نے انتقام نہیں لینا تھا اور جو اسلام اور مسلمانوں کے مخالف تھے وہ مخالفت کا اظہار کرنے اور خوش ہونے کے لیے وہاں گئے تھے کہ دیکھیں کس طرح اس کو قتل کیا جاتا ہے۔پھر جب حضرت خبیب کو مع زید بن دشتہ کے تنعیم لے کر پہنچ گئے تو مشرکین کے حکم سے ایک لمبی لکڑی کھو دی گئی۔پھر جب وہ لوگ خبیب کو اس لکڑی کے پاس لے کر پہنچے ، وہاں کھڑی کی گئی تو خبیب بولے کیا مجھے دور کعت پڑھنے کی مہلت مل سکتی ہے ؟ لوگ بولے کہ ہاں۔حضرت خبیب نے دو نفل اختصار کے ساتھ ادا کیے اور انہیں لمبانہ کیا۔یہ ان خاتون کی روایت ہے۔706 ابن سعد کے حوالے سے جو روایت ابھی بیان ہوئی ہے اس کے مطابق ماویہ جو تھیں حجیر بن ابواہاب کی آزاد کردہ لونڈی تھیں جن کے گھر میں حضرت خبیب قید کیے گئے تھے۔علامہ ابن عبد البر کے مطابق حضرت خبیب عقبہ کے گھر میں قید تھے اور عقبہ کی بیوی انہیں خوراک مہیا کرتی تھیں اور کھانے کے وقت وہ حضرت خبیب کو کھول دیا کرتی تھی۔707