اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 298

تاب بدر جلد 4 298 704 ایک اور روایت کے مطابق حضرت عمرو بن امیہ ضمری بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے حضرت خبیب کو رسیوں وغیرہ سے آزاد کر کے نیچے لٹایا تو میں نے اپنے پیچھے کوئی آہٹ کی آواز سنی۔پھر جب دوبارہ میں سیدھا ہوا تو کچھ بھی نظر نہ آیا اور حضرت خبیب کی نعش غائب ہو چکی تھی۔تو پہلی روایت جو زیادہ صحیح لگتی ہے کہ پیچھے جب دوڑے تو انہوں نے دریا میں پھینک دیا اور دریا نے اس کو بہالی یا آگے پیچھے کر دیا، ندی تھی پانی کا بہاؤ تھا۔تو مختلف روایات آتی ہیں۔بہر حال اسی نام سے مشہور ہو گئے تھے کہ ان کی نعش زمین میں غائب ہو گئی۔705 تو وہ کفار جو کچھ کرنا چاہتے تھے کوئی معلوم نہ کر سکے اس نعش کی بے حرمتی وہ نہیں کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ رکھا۔حضرت خبیب کی قید کا واقعہ ایک اور روایت کے مطابق ایک روایت حضرت خبیب بن عدی کے قید کے واقعے کے بارے میں اس طرح بھی ہے کہ ماويه، مُجير بن ابواهَاب کی آزاد کردہ لونڈی تھی مکہ میں ان ہی کے گھر میں حضرت خبیب بن عدی قید تھے تا کہ حرمت والے مہینے ختم ہوں تو انہیں قتل کیا جاسکے۔ماویہ نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ اچھی مسلمان ثابت ہوئیں۔ماویہ بعد میں یہ قصہ بیان کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے حضرت بہتر کسی کو نہیں دیکھا۔میں انہیں دروازے کے درز سے دیکھا کرتی تھی اور وہ زنجیر میں بندھے ہوتے تھے اور میرے علم میں روئے زمین پر کھانے کے لیے انگوروں کا ایک دانہ بھی نہ تھا، اس علاقے میں کوئی انگور نہیں تھا لیکن حضرت خبیب کے ہاتھ میں آدمی کے سر کے برابر انگوروں کا گچھا ہوتا تھا یعنی کافی بڑا گچھا ہو تا تھا جس میں سے وہ کھاتے۔وہ اللہ کے رزق کے سوا اور کچھ نہ تھا۔حضرت خبیب تہجد میں قرآن پڑھتے اور عورتیں وہ سن کر رو دیتیں اور انہیں حضرت خبیب پر رحم آتا۔وہ بتاتی ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت خبیب سے پوچھا اے خبیب! کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ہاں ایک بات ہے کہ مجھے ٹھنڈا پانی پلا دو اور مجھے بتوں کے نام پر ذبح کیے جانے والے سے گوشت نہ دینا۔جو کھانا تم لوگ دیتے ہو کبھی وہ کھانا نہ دینا جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور تیسری بات یہ کہ جب لوگ میرے قتل کا ارادہ کریں تو مجھے بتا دینا۔پھر جب حرمت والے مہینے گزر گئے اور لوگوں نے حضرت خبیب کے قتل پر اتفاق کر لیا تو کہتی ہیں کہ میں نے ان کے پاس جا کر انہیں یہ خبر دی۔کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! انہوں نے اپنے قتل کیے جانے کی کوئی پروا نہیں کی۔انہوں نے مجھ سے کہا میرے پاس استرا بھیج دو تا کہ میں اپنے آپ کو درست کر لوں۔وہ بتاتی ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے ا ابو حسین کے ہاتھ استر ابھیجا۔یہ بیٹا جو ہے کہتی ہیں وہ حقیقی بیٹ نہ تھا بلکہ ماویہ نے اس کی صرف پرورش کی تھی، یہی لکھا گیا ہے۔جب بچہ چلا گیا تو پھر کہتی ہیں میرے دل میں خیال پید ا ہوا کہ اللہ کی قسم ! خبیب