اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 284

تاب بدر جلد 4 284 کے پاس پاؤں پر کھینچی جاتی تو سر کی جانب سے سکڑ جاتی اور جب سر کی طرف کھینچی جاتی تو پاؤں کی طرف سکڑ جاتی یہاں تک کہ ان پر اذخر گھاس ڈالی گئی۔میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ اس حال میں دیکھا کہ میں ایک دینار کا مالک تھانہ ایک درہم کا۔یعنی کچھ تھی میرے پاس نہیں تھا نہ دینار تھا نہ در ہم تھا۔ایک دینار بھی نہیں تھا اور اب کیا حال ہے۔آپ نے فرمایا کہ اب میرے مکان کے کونے میں صندوق میں پورے چالیس ہزار درہم ہیں اور میں ڈرتا ہوں کہ ہماری طیب چیزیں ہمیں اس زندگی میں نہ دے دی گئی ہوں۔671 حضرت خباب بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی علیم کے ساتھ ہجرت کی۔ہم اللہ تعالیٰ ہی کی رضا چاہتے تھے اور ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہو گیا۔ہم میں سے ایسے بھی تھے جو وفات پاگئے اور انہوں نے اپنے اجر سے کچھ نہیں کھایا۔ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں۔اور ہم میں سے ایسے بھی ہیں جن کا پھل پک گیا اور وہ اس پھل کو چن رہے ہیں۔حضرت مصعب احد کے دن شہید ہوئے تھے اور ہمیں صرف ایک ہی چادر ملی تھی کہ جس سے ہم ان کو کفناتے۔جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں نکل جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر نکل جاتا تو نبی کریم صلی علیم نے فرما یا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔2 حضرت علی ملکا خراج تحسین اور دعا ا 672 زید بن وھب نے بیان کیا کہ ہم حضرت علی کے ساتھ آرہے تھے جب وہ جنگ کے بعد صفین سے کوٹ رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ کوفہ کے دروازے پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے داہنی طرف سات قبریں ہیں۔حضرت علی نے پوچھا کہ یہ قبریں کیسی ہیں۔لوگوں نے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کے صفین کے لیے نکلنے کے بعد حباب کی وفات ہو گئی۔انہوں نے وصیت کی کہ کوفہ سے باہر دفن کیا جائے۔وہاں لوگوں کا دستور تھا کہ اپنے مردوں کو اپنے صحنوں میں اور اپنے گھروں کے دروازوں کے ساتھ دفن کیا کرتے تھے مگر جب انہوں نے حضرت خباب کو دیکھا کہ انہوں نے باہر دفن کرنے کی وصیت کی تو لوگ بھی دفن کرنے لگے۔حضرت علیؓ نے کہا اللہ خباب " پر رحم کرے اوہ اپنی خوشی سے اسلام لائے۔اور انہوں نے اطاعت کرتے ہوئے ہجرت کی۔اور ایک مجاہد کے طور پر زندگی گزاری۔اور جسمانی طور پر وہ آزمائے گئے۔اور جو شخص نیک کام کرے اللہ اس کا اجر ضائع نہیں کر تا یعنی ان کی جسمانی تکلیفیں بیماریاں بہت لمبی چلیں۔پھر حضرت علی نے فرمایا کہ اور جو شخص نیک کام کرے اللہ اس کا اجر ضائع نہیں کرتا۔حضرت علی ان قبروں کے نزدیک گئے اور کہا اے رہنے والو جو مومن اور مسلمان ہو تم پر سلامتی ہو۔تم آگے جا کر ہمارے لیے سامان کرنے والے ہو اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے تم سے ملنے والے ہیں۔اے اللہ ! ہمیں اور انہیں بخش دے اور اپنے عفو کے ذریعہ ہم سے اور ان سے در گزر کر۔خوشخبری ہو اس شخص کو جو آخرت کو یاد کرے اور حساب کے لیے عمل کرے اور جو اس کی