اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 280
اصحاب بدر جلد 4 280 66266 پر ایسے سفید داغ نظر آئے جیسے کہ برص کے داغ ہوتے ہیں۔“ پھر حضرت مصلح موعود ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ”ایک دفعہ ایک ابتدائی نو مسلم غلام حباب کی پیٹھ ننگی ہوئی تو ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ کا چمڑہ انسانوں جیسا نہیں، جانوروں جیسا ہے۔وہ گھبر اگئے اور ان سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے ؟ وہ ہنسے ” یعنی حضرت خباب ہنسے “ اور کہا بیماری نہیں یہ یاد گار ہے اس وقت کی جب ہم تو مسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روار کھے جاتے تھے۔اسی کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑہ یہ شکل اختیار کر گیا ہے۔66366 ابتدائی غریب مسلمان جو بعد میں دنیاوی مقامات سے نوازے گئے ان ابتدائی مسلمانوں کو جو غریب بھی تھے اور اکثر غلام بھی تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد جن تکالیف میں سے انہیں گزرنا پڑا جس کا ذکر ابھی ہم نے حضرت خباب کے حوالے سے سنا ہے کہ کبھی آگ پہ لٹا دیا جاتا، کبھی ان کو پتھروں پر گھسیٹا جاتا۔یہ تکلیفیں تو انہوں نے برداشت کر لیں اور جب بعد میں اسلام کی ترقی ہوئی تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے کس طرح نوازا اور ان کا دنیاوی مقام بھی کس طرح قائم فرمایا اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنے زمانہ خلافت میں مکہ تشریف لائے تو شہر کے بڑے بڑے رؤساء جو مشہور خاندانوں میں سے تھے ان کے ملنے کے لیے آئے۔انہیں خیال پیدا ہوا کہ حضرت عمرؓ ہمارے خاندانوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔اس لیے اب جبکہ وہ خود بادشاہ ہیں ہمارے خاندانوں کا بھی پوری طرح اعزاز کریں گے اور ہم پھر اپنی گم گشتہ عزت کو حاصل کر سکیں گے۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے آپ سے باتیں شروع کر دیں۔ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حضرت عمر کی مجلس میں حضرت بلال آگئے۔تھوڑی دیر گزری تو حضرت خباب آگئے اور اس طرح یکے بعد دیگرے اول الایمان غلام تے چلے گئے یعنی شروع میں جو ایمان لانے والے تھے وہ غلام تھے۔وہ سارے ایک کے بعد دوسرا آتے چلے گئے۔یہ وہ لوگ تھے جو ان رؤساء یا ان کے آباء کے غلام رہ چکے تھے۔یہ جو نوجوان رؤساء بیٹھے تھے یا اس وقت کے جو رؤساء بیٹھے تھے یہ سارے آنے والے جو تھے یہ ان کے آباؤ اجداد کے غلام تھے۔اور جب وہ غلام تھے تو اس وقت اپنی طاقت کے زمانے میں وہ ان پر شدید ترین مظالم بھی کیا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے ہر غلام کی آمد پر اس کا استقبال کیا، جب بھی یہ لوگ حضرت خباب یا حضرت بلال وغیرہ آتے تھے ، جب بھی یہ بہت سارے اول الایمان لوگ آئے اور جو غلام بھی تھے کسی زمانے میں۔جب بھی وہ مجلس میں آتے تو حضرت عمررؓ بڑی اہمیت سے ان کا استقبال کرتے۔آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ہر غلام کی آمد پر اس کا استقبال کیا اور رؤساء سے کہا کہ آپ ذرا پیچھے ہو جائیں۔رؤساء مجلس میں آگے بیٹھے ہوتے تھے جب یہ پرانے ایمان لانے والے آتے تھے تو آپ ان رؤساء کو جو مکہ کے