اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 266
اصحاب بدر جلد 4 266 میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ ان کے ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وَ اِنْ عَاقَبتُم فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ (نحل: 127) اور اگر تم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی تم پر زیادتی کی گئی تھی اور اگر تم صبر کرو تو یقینا صبر کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر کریں گے اور اپنی قسم کا 627 کفارہ ادا کر دیا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کل رات جب میں جنت میں داخل ہوا، یہ نظارہ آپ نے دیکھا، تو میں نے دیکھا کہ جعفر فرشتوں کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں جبکہ حمزہ تخت پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔528 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حضرت حمزہ کے پاس سے گزرے۔ان کا ناک اور کان کاٹے گئے تھے اور مثلہ کیا گیا تھا۔اس پر فرمایا اگر مجھے صفیہ کے رنج و غم کا خیال نہ ہو تا تو میں ان کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ ان کو پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے ہی اٹھاتا۔پھر آپ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر میں کفن دیا گیا۔629 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حمزہ کی شہادت اور آپ کی لاش کو دیکھ کر جذبات کا اظہار اور نہ صرف خود صبر کا نمونہ دکھانا بلکہ حضرت حمزہ کی بہن اور اپنی پھوپھی کو بھی اس کا پابند کرنا جس کا کچھ ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔پھر نوحہ کرنے والی انصاری عورتوں کو نوحہ کرنے سے روکنے کا واقعہ ہے۔اس واقعہ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابح نے اپنی خلافت سے پہلے کی جلسہ سالانہ کی ایک تقریر میں بیان فرمایا تھا، وہ میں بیان کر دیتا ہوں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلقِ عظیم کا بھی پتہ لگتا ہے۔بہر حال یہ مناسب ہے کہ اس واقعہ کو یہاں بیان کیا جائے۔پہلے تو مختصر حدیثوں کے حوالے سے بیان ہو چکا ہے۔فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہ سے جو پیار تھا اس کا اظہار ان الفاظ سے ہوتا ہے جو اُحد کی شام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی نعش پر کھڑے ہو کر فرمائے۔آپ نے فرمایا اے حمزہ! مجھے آج جو غصہ ہے اور جو تکلیف تیرے مقتل پر کھڑے ہو کر پہنچی ہے اللہ آئندہ کبھی مجھے ایسی تکلیف نہ دکھائے گا۔اس وقت آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ، حضرت حمزہ کی بہن بھی یہ خبر سن کر وہاں چلی آئیں تو اس خوف سے کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے پہلے تو آپ نے انہیں نعش دیکھنے کی اجازت نہ دی لیکن جب انہوں نے صبر کا وعدہ کیا تو اجازت فرما دی۔بہر حال آپ حضرت حمزہ کے مقتل پر حاضر ہوئیں اور شیر خدا اور شیر رسول اپنے پیارے بھائی کی لاش اس حالت میں سامنے پڑی دیکھی کہ ظالموں نے سینہ پھاڑ کر کلیجہ نکال لیا تھا اور چہرے کے نقوش بھی بُری طرح بگاڑ دیے تھے۔ہر چند کہ سینہ غم سے بیٹھا جاتا تھا مگر صفیہ اپنے صبر کے وعدے پر قائم رہیں