اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 174
تاب بدر جلد 4 174 سے نکاح کرنا چاہو تو کر دو اور اگر ترک کرنا چاہو تو ترک کر دو۔انہوں نے کہا کہ جس کے آپ بھائی ہیں اس سے ہم نکاح کر دیں گے۔پس انہوں نے آپ کے بھائی سے نکاح کر دیا۔435 بلال کا مقام و مر تبہ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ بنو آبو بگیر رسول کریم ملی نیم کے پاس آئے کہ فلاں شخص سے ہماری بہن کا نکاح کر دیں۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ بلال کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ لوگ دوسری مرتبہ آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! ہماری بہن کا فلاں شخص سے نکاح کر دیں۔آپ نے فرمایا تم لوگوں کا بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ لوگ انکار کر کے چلے گئے۔پھر تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! ہماری بہن کا فلاں شخص سے نکاح کر دیں۔آپ نے فرمایا تم لوگوں کا بلال کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ تم لوگوں کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اہل جنت میں سے ہے ؟ راوی کہتے ہیں اس پر ان لوگوں نے حضرت بلال سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔حوالہ جو پہلے میں نے کہا تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ شادیاں نہیں ہوئی تھیں۔وہ بات شاید کسی اور سیاق و سباق کے تحت ہو۔شادیاں پہلے ہوئی تھیں۔اور یہ بھی ایک حوالہ ہے۔436 غلاموں کا دربار خلافت میں رئیسان مکہ سے پہلے ملاقات کے لئے جانا و۔۔۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ” ایک دفعہ حضرت عمررؓ کے عہد خلافت میں وہ (یعنی سہیل بن عمرو ) اور ابوسفیان اور بعض دوسرے رؤسائے مکہ جو فتح کے وقت مسلمان ہوئے تھے حضرت عمر کو ملنے کے لیے گئے۔حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں ابو سفیان اور بعض دوسرے رؤسائے مکہ جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے حضرت عمرؓ کو ملنے کے لیے گئے۔اتفاق سے اسی وقت بلال اور عمار اور صہیب وغیرہ بھی حضرت عمرؓ سے ملنے کے لیے آگئے۔یہ وہ لوگ تھے جو غلام رہ چکے تھے اور بہت غریب تھے مگر ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ابتدا میں اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عمر کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے بلال وغیرہ کو پہلے ملاقات کے لیے بلایا۔ابو سفیان نے جس کے اندر غالباً ابھی تک کسی قدر جاہلیت کی رگ باقی تھی یہ نظارہ دیکھا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔چنانچہ کہنے لگا یہ ذلت بھی ہمیں دیکھنی تھی کہ ہم انتظار کریں اور ان غلاموں کو شرف ملاقات بخشا جاوے۔سہیل نے فوراً سامنے سے جواب دیا کہ پھر یہ کس کا قصور ہے ؟ محمد علی ای کم نے ہم سب کو خدا کی طرف بلایا لیکن انہوں نے فورامان لیا اور ہم نے دیر کی۔پھر ان کو ہم پر فضیلت حاصل ہو یا نہ ہو ؟437 حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کا ذکر اس طرح کیا ہے اور حضرت بلال کے مقام و مرتبہ کا ذکر فرماتے ہوئے کہ حضرت عمر اپنی خلافت کے زمانے میں ایک دفعہ مکہ میں آئے تو وہی غلام جن کو سر کے بالوں سے پکڑ کر لوگ گھسیٹا کرتے تھے ایک ایک کر کے حضرت عمر کی ملاقات کے لیے آنا شروع ہوئے۔وہ عید کا دن تھا اور ان غلاموں کے آنے سے پہلے مکہ کے بڑے بڑے رؤساء کے بیٹے آپ کو