اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 157

اصحاب بدر جلد 4 157 دونوں پر بھی ظلموں کی انتہا ہوئی تھی۔شروع میں کچھ عرصہ نرمی ہوئی لیکن بعد میں تو بڑی سختیاں ہوتی رہیں لیکن بہر حال یہ راوی کا بیان ہے۔بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ان کا تو کوئی نہ کوئی سپورٹ کرنے والا تھا۔کوئی بات کہہ دیتا تھا، آواز اٹھا دیتا تھا لیکن باقیوں کو مشرکوں نے پکڑ لیا جو کمزور تھے یا غلام تھے اور لوہے کی زرہیں پہنائیں اور انہیں دھوپ میں جلاتے تھے۔پس ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے ان کے ساتھ جس میں وہ چاہتے تھے موافقت نہ کر لی ہو سوائے بلال کے کیونکہ ان پر اپنا نفس اللہ کی خاطر بے حیثیت ہو گیا تھا۔حضرت بلال تھے جو ہمیشہ ثابت قدم رہے اور وہ اپنی قوم کے لیے بھی ہے حیثیت تھے۔وہ ان کو پکڑتے اور لڑکوں کے سپر د کر دیتے اور وہ انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں گھماتے پھرتے اور بلال احد احد کہتے جاتے۔یہ ابن ماجہ کی روایت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی حضرت بلال کے اول زمانے میں ایمان لانے کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت خَبَّاب جو السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ صحابہ میں سے تھے اور جن کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ انہوں نے پہلے بیعت کی یا بلال نے۔کیونکہ رسول کریم صلی علیم نے ایک دفعہ فرمایا کہ ایک غلام اور ایک محر نے مجھے سب سے پہلے قبول کیا تھا۔بعض لوگ اس سے حضرت بلال اور حضرت ابو بکر مراد لیتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت ابو بکر اور حضرت خباب ہیں۔400 401❝ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا حضرت بلال کی تکالیف کا ذکر کرنا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں حضرت بلال کی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے جو بیان فرمایا ہے وہ اس طرح ہے کہ : بلال بن رباح، امیہ بن خلف کے ایک حبشی غلام تھے۔امیہ ان کو دو پہر کے وقت جبکہ اوپر سے آگ برستی تھی اور مکہ کا پتھر یلا میدان بھٹی کی طرح تپتا تھا باہر لے جاتا اور ننگا کر کے زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر ان کے سینے پر رکھ کر کہتا لات اور عزیٰ کی پرستش کر اور محمد سے علیحدہ ہو جا، ورنہ اسی طرح عذاب دے کر مار دوں گا۔بلال زیادہ عربی نہ جانتے تھے۔بس صرف اتنا کہتے أحد أحد یعنی اللہ ایک ہی ہے۔اللہ ایک ہی ہے۔اور یہ جواب سن کر امیہ اور تیز ہو جاتا اور ان کے گلے میں رسہ ڈال کر انہیں شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ ان کو مکہ کے پتھر یلے گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے ان کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا مگر ان کی زبان پر سوائے أحد احد کے اور کوئی لفظ نہ آتا۔حضرت ابو بکر نے ان پر یہ جو روستم دیکھا تو ایک بڑی قیمت پر خرید کر انہیں آزاد کر دیا۔102 ہجرت مدینہ اور مواخات قیام کیا۔402< حضرت بلال جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے حضرت سعد بن خَيْثَمَہ کے گھر رسول اللہ صلی الم نے حضرت بلال کی مواخات حضرت عبیدہ بن حارث سے کروائی جبکہ ایک