اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 145 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 145

تاب بدر جلد 4 145 حضرت بشير بن سعد زمانہ جاہلیت میں لکھنا جانتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب عرب میں بہت کم لوگ لکھنا جانتے تھے۔بیعت عقبہ ثانیہ اور تمام غزوات میں شمولیت آپ بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔آپ غزوہ بدر اور احد اور غزوہ خندق اور باقی کے تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ ظلم کے شامل ہوئے تھے۔سریه فدک رسول اللہ صلی اللہ ہم نے شعبان 7 ہجری میں حضرت بشیر بن سعد کی نگرانی میں تیس آدمیوں پر مشتمل ایک سر یہ فدک میں بینی مرہ کی جانب بھیجا تھا۔ان لوگوں میں شدید لڑائی بھی ہوئی تھی۔حضرت بشیر نہایت جوانمردی سے لڑے اور لڑتے ہوئے آپ کے ٹخنے پر تلوار لگی اور سمجھا گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔دشمنوں نے ان کو چھوڑ دیا کہ شاید بیہوش ہو کے گرے ہوں گے یا شہید ہو گئے ہیں۔چھوڑ کے آگئے۔لیکن جب شام کو آپ کو ہوش آئی تو آپ وہاں سے فدک آگئے۔فدک میں آپ نے ایک یہودی کے گھر چند روز قیام کیا اور پھر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔اسی طرح شوال 7 ہجری میں رسول اللہ صلی علیکم نے آپ کو تین سو آدمیوں کے ہمراہ یمن اور جہاز کی طرف روانہ فرمایا جو کہ فدک اور وادی القری کے درمیان واقع ہے۔یہاں غطفان کے کچھ لوگ عُيَيْنَه بن حِصْنِ الْفَزَارِی کے ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے۔یہ اسلام کے خلاف منصوبہ بندیاں کرتے تھے۔حضرت بشیر نے ان سے مقابلہ کر کے انہیں منتشر کر دیا۔مسلمانوں نے بعض کو قتل بھی کیا اور بعض کو قیدی بنایا اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹے 364 جنگ اور نقصان پہنچانے کے لئے جمع ہوا کرتے تھے۔اس لئے ان کے خلاف مسلمانوں کے تحفظ کے لئے یہ کارروائی کی جاتی تھی۔مال لوٹنا یا قتل کرنا مقصد نہیں تھا۔جیسا کہ گذشتہ خطبہ میں بھی میں نے بیان کیا تھا کہ ایک غلط حملے پر جس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا آنحضرت صلی علی کریم نے صحابہ سے بڑی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ کیوں تم نے جنگ لڑی؟ کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے؟ بشیر بن سعد کے بارے میں ایک روایت ہے جو ان کے بیٹے حضرت نُعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں۔نعمان بن بشیر ان کا نام تھا کہ ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس لائے اور عرض کی کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام دیا ہے اس پر رسول اللہ صلی علیہم نے فرمایا کہ تم نے اپنے سارے بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا پھر اس سے واپس لے لو۔365 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر " کہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنا کچھ مال مجھے عطا