اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 141
اصحاب بدر جلد 4 بشر بن براء کی والدہ کا اظہار افسوس 141 حضرت بشر بن بر اثر نے جب وفات پائی تو ان کی والدہ کو شدید دکھ ہوا۔انہوں نے آنحضرت صلی علیم کے پاس آکر کہا کہ یارسول اللہ صلی علیکم ! بشر کی وفات بنو سلمہ کو ہلاک کر دے گی اور بنو سلمہ میں سے مرنے والے تو مرتے ہی رہیں گے۔کیا مردے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔انہوں نے جو یہ حرکت کی ہے تو یہ حرکت کرنے والے تو ہلاک ہوں گے ، لیکن کیا مردے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ؟ کیا پشر کی طرف سلام پہنچایا جاسکتا ہے ؟ رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا ہاں اسے اہم بشر ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جیسے پرندے درختوں پر ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں ویسے ہی جنتی بھی ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔357 مطلب یہ تھا کہ ان کو پہچان لیں گے تو جو فوت ہونے والے ہیں ان کے ہاتھوں میں سلام بھیج سکتی ہوں۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ قبیلہ بنو سلمہ کا کوئی بھی شخص جب وفات پانے والا ہوتا تو آنحضرت علی علیم کی اس بات کو سننے کے بعد حضرت بشر کی والدہ اس کے پاس جا کر کہتیں کہ اے فلاں ! تجھ پر سلام تو وہ جواب میں کہتا تجھ پر بھی۔پھر وہ کہتیں کہ بشر کو میر اسلام کہنا۔358 کوئی بھی بنو سلمہ کا فوت ہونے والا شخص ہو تا تو آپ ان کے پاس جا کر کہتیں، ان کو سلام پہنچانا۔بنو سلمہ میں سے تھے۔پہلے شاید میں نے دشمن کی بات کی۔دشمنوں والی بات نہیں ہے۔وہ ان کا کہنے کا انداز ہے کہ بشر کی وفات بنو سلمہ کو ہلاک کر دے گی۔کیا مردے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔یعنی بہت صدمہ ہے ہمارے لیے۔کیا بشر کی طرف سلام پہنچایا جاسکتا ہے ؟ اور جب آنحضرت صلی لی ہم نے فرمایا کہ ہاں۔پھر آپ ہر فوت ہونے والے کے ذریعہ یہ پیغام دیتیں کہ وہاں جنت میں جاؤ گے تو سلام پہنچانا۔ایک روایت کے مطابق حضرت بشر کی بہن رسول اللہ صلی نیلم کی مرض الموت میں آپ کے پاس آئی تو آنحضرت صلی ا ہم نے اسے فرمایا تمہارے بھائی کے ساتھ میں نے خیبر میں جو لقمہ کھایا تھا اس کی وجہ سے میں اپنی رگوں کو کتنا محسوس کرتا ہوں۔زہریلے گوشت سے نبی اکرم صلی ا ہم کو قتل کرنے کی سازش اور حضرت مصلح موعود کا بیان اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے تفصیل بیان فرمائی ہے فرماتے ہیں کہ : یہودی عورت نے صحابہ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی علیکم کو جانور کے کس حصے کا گوشت زیادہ پسند ہے ؟ صحابہ نے بتایا کہ آپ کو دستی کا گوشت زیادہ پسند ہے۔اس پر اس نے بکر اذبح کیا اور پتھروں پر اس کے کباب بنائے اور پھر اس گوشت میں زہر ملا دیا خصوصاً بازوؤں میں جس کے متعلق اسے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی للہ ہم اس کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں اور پھر سورج ڈوبنے کے بعد جب رسول کریم صلی علی کل شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آرہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے خیمے کے پاس ایک عورت 359 الله