اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 131
تاب بدر جلد 4 وفات 131 حضرت اوس بن صامت شاعر بھی تھے۔حضرت اوس بن صامت اور شداد بن اوس انصاری نے بیت المقدس میں رہائش رکھی۔ان کی وفات سر زمین فلسطین کے مقام رنکہ میں 34 ہجری میں ہوئی۔اس وقت حضرت اوس کی عمر 72 سال تھی۔335 41 قبول اسلام حضرت ایاس بن بکیره جنگ بدر میں شامل ہونے والے چار بھائیوں میں سے ایک پھر حضرت ایاس بن بگیر ہیں، ان کو ابن ابی بج گئیر بھی کہا جاتا تھا۔آپ قبیلہ بنو سعد بن لیث سے تھے جو بنو عدی کے حلیف تھے۔حضرت عاقل، حضرت عامر ، حضرت ایاس اور حضرت خالد نے اکٹھے دار ارقم میں اسلام قبول کیا تھا۔حضرت ایاس اور ان کے بھائیوں حضرت عاقل اور حضرت خالد اور حضرت عامر نے اکٹھی ہجرت کی اور مدینہ میں رفاعہ بن عبد المندر کے ہاں قیام کیا۔ان کی والدہ کی طرف سے تین بھائی اور بھی تھے یہ سب کے سب غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ابن یونس نے کہا ہے کہ ایاس فتح مصر میں بھی شریک تھے اور 34 ہجری میں وفات پائی جبکہ ایک روایت کے مطابق حضرت ایاس نے جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ان کے بھائی حضرت معاذ اور حضرت معوذ اور عاقل غزوہ بدر میں جبکہ حضرت خالد واقعہ رجیع میں اور حضرت عامر جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔حضرت عامر کے متعلق ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے بئر معونہ میں شہادت پائی۔تمام غزوات میں شامل اور ابتدائی ہجرت کرنے والے حضرت ایاس بن بگیر غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور باقی تمام غزوات میں نبی کریم صلی ال نیم کے ہمراہ رہے۔آپ سابقین اسلام میں سے تھے اور ابتدائی ہجرت کرنے والوں میں سے تھے۔آپ محمد بن ایاس بن بگیر کے والد تھے۔رسول کریم صلی العلیم نے حضرت ایاس بن بگیر اور حضرت حارث بن خزمہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔یہ شاعر بھی تھے۔336