اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 119
صحاب بدر جلد 4 119 نے دیکھا تو غصے ہوئے۔اس نے کہا کہ میں نے مسجد میں کوئی فحش بات تو نہیں کی۔انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے مگر یہ بات بھی مسجد کے ادب کے خلاف ہے کہ یہاں کسی دنیاوی چیز کا اعلان کیا جائے۔وفات اور اولاد 302 حضرت ابی کی وفات کے سال میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ایک روایت کے مطابق حضرت ابی کی وفات حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بائیس ہجری میں ہوئی جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں تیس ہجری میں ہوئی اور یہی زیادہ درست قول ہے کیونکہ حضرت عثمان نے حضرت ابی کے ذمہ جمع قرآن کا کام سپر د کیا تھا۔303 حضرت ابی کی اولاد میں طفیل اور محمد تھے اور ان بچوں کی والدہ کا نام ام طفیل بنت طفیل تھا۔وہ قبیلہ دوس سے تعلق رکھتی تھیں۔حضرت اُبی کی ایک بیٹی کا نام اقد عمر و بیان ہوا ہے۔304 33 نام و نسب و کنیت حضرت ارقم بن ابی ارقم بنت حضرت ارقم بن ابی ارقم۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔حضرت ارقم کی والدہ کا نام امنيمه به حارث تھا۔بعض روایت میں ان کا نام تما خير بنتِ حُذَيْم اور صفیہ بنت حارث بھی بیان ہوا ہے۔حضرت ارقم کا تعلق قبیلہ بنو خزوم سے تھا۔قبول اسلام آپ اسلام لانے والے اولین صحابہ میں سے تھے۔بعض کے نزدیک جب آپ ایمان لائے تو آپ سے قبل گیارہ افراد اسلام قبول کر چکے تھے۔بعض کہتے ہیں کہ آپ نے ساتویں نمبر پر اسلام قبول کیا۔حضرت عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ارقم، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت عثمان بن مظعون اکٹھے ایک ہی وقت میں ایمان لائے۔دارار تم اہمیت و فضیلت حضرت ارقم کا ایک گھر مکہ سے باہر کوہ صفا کے پاس تھاجو تاریخ میں دار ار تم کے نام سے مشہور ہے۔دار ارقم ان کا گھر تھا۔اس گھر میں رسول اللہ صلی علیہ کم اور اسلام قبول کرنے والے افراد عبادت کیا ا ا