اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 112

اصحاب بدر جلد 4 112 ایک جاں نثار کا مرتے ہوئے آخری پیغام دینا کہ اس امانت کی حفاظت تمہارے سپرد غزوہ احد کا ایک واقعہ جو پہلے بھی بیان ہو چکا ہے، مختصر بیان یہاں بھی کر دیتا ہوں۔جنگ کے بعد آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت ابی بن کعب کو فرمایا کہ جاؤ اور زخمیوں کو دیکھو۔وہ دیکھتے ہوئے حضرت سعد بن ربیع کے پاس پہنچے جو سخت زخمی تھے اور آخری سانس لے رہے تھے۔انہوں نے ان سے کہا کہ اپنے متعلقین اور اعزاء کو اگر کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دے دیں۔حضرت سعد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں منتظر ہی تھا کہ کوئی مسلمان ادھر آئے تو پیغام دوں۔284 پھر کہنے لگے کہ میرے ہاتھ میں ہاتھ دو اور وعدہ کرو کہ میرا پیغام ضرور پہنچا دو گے۔اور پیغام کیا تھا۔وہ یہ تھا کہ میرے بھائی ! مسلمانوں کو میر اسلام پہنچا دینا اور میری قوم اور میرے رشتہ داروں سے کہنا کہ رسول کریم صلی الیہ کم ہمارے پاس خدا تعالیٰ کی ایک بہترین امانت ہیں اور ہم اپنی جانوں سے اس امانت کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔اب ہم جاتے ہیں اور اس امانت کی حفاظت تمہارے سپر د کرتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ تم اس کی حفاظت میں کمزوری دکھاؤ۔ور ہجری میں جب زکوۃ فرض ہوئی اور آنحضرت صلی الله یمن نے تحصیل صدقات کے لیے عرب کے صوبہ جات میں عمال روانہ فرمائے تو حضرت ابی قبیلہ بنوبتی بنو عذر اور بنو سعد میں صدقہ کے عامل مقرر ہو کر گئے۔ایک دفعہ حضرت ابی ایک گاؤں میں گئے تو ایک شخص نے تمام جانور لا کر سامنے کھڑے کر دیے کہ ان میں سے زکوۃ کے طور پر جس کو چاہیں انتخاب کر لیں۔حضرت اُبی نے اونٹوں میں سے دو برس کا ایک بچہ چنا۔صدقہ دینے والے نے کہا کہ اس کے لینے سے کیا فائدہ؟ نہ تو یہ دودھ دے سکتا ہے نہ سواری کے قابل ہے۔اگر آپ لینا چاہتے ہیں تو یہ اونٹنی حاضر ہے۔موٹی تازی بھی ہے اور جو ان بھی ہے۔حضرت ابی نے کہا کہ یہ کبھی نہیں ہو گا۔رسول اللہ صلی للی علم کی ہدایت کے خلاف میں نہیں کر سکتا۔اس سے یہ بہتر ہے کہ تم میرے ساتھ چلو۔مدینہ یہاں سے کچھ دُور نہیں ہے آنحضرت صلی اللی کم کے پاس جاتے ہیں آپ جو ارشاد فرمائیں گے اس کی تعمیل کرنا۔وہ اس پر راضی ہو گیا اور حضرت اُئی کے ساتھ اونٹنی لے کر مدینے آیا اور آنحضرت صلی الیکم کے سامنے تمام قصہ دہر ایا۔آپ سی میں ہم نے فرمایا کہ اگر تمہاری مرضی یہی ہے تم بڑی اونٹنی دینا چاہتے ہو تو تم اونٹنی دے دو قبول کر لی جائے گی اور خدا تم کو اس کا اجر دے گا۔وہ اونٹنی آنحضرت علی سلم کی خدمت میں پیش کر کے واپس چلا گیا۔ترتیب و تدوین قرآن حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں قرآن مجید کی ترتیب اور تدوین کا کام شروع ہوا۔صحابہ کی جو جماعت اس خدمت پر مامور کی گئی حضرت ابی اس کے نگران تھے۔وہ قرآن کے الفاظ بولتے تھے اور لوگ ان