اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 111

ب بدر جلد 4 111 صلی اللی کرم نے فرمایا کہ ”سچ کہتے ہیں“۔یعنی خطبے میں تمہیں بولنا نہیں چاہیے تھا۔279 سے عظیم آیت حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اے ابو منذر ! کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں جو تمہارے پاس ہے سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ حضرت ابی کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے دوبارہ پوچھا اور فرمایا اے ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی کتاب میں جو تمہارے پاس ہے سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ وہ کہتے ہیں جب دوبارہ پوچھا تو اس پر پھر میں نے عرض کیا کہ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وہ کہتے ہیں حضور صلی ا ہم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا بخدا اے ابو منذرا علم تمہیں مبارک ہو۔280 آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس بات کو ، جواب کو پسند کیا۔قرآن پڑھانے کے عوض کوئی ہدیہ نہیں لیتا آنحضرت صلیم کے عہد مقدس میں حضرت اُبی نے حضرت طفیل بن عمرو دوسی کو قرآن پڑھایا تھا۔انہوں نے ایک کمان بدیہ پیش کی۔حضرت ابی اس کو لگا کر رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ صلی علیہم نے پوچھا کہ یہ کہاں سے لائے ہو ؟ حضرت اُبی نے کہا کہ ایک شاگرد کا ہدیہ ہے۔آپ صلی لیلی یم نے فرمایا اس کو واپس کر دو۔آئندہ ایسے ہدیے سے پر ہیز کرنا۔اسی طرح ایک شاگر دنے کپڑ ا ہدیہ میں پیش کیا اس میں بھی یہی صورت پیش آئی۔اس لیے بعد میں ان باتوں سے بکلی اجتناب کر لیا یعنی قرآن پڑھانے کے عوض میں کوئی ہد یہ نہیں لینا۔ملک شام کے لوگ جب آپ سے قرآن مجید پڑھتے اور مدینہ کے کاتبوں سے لکھواتے بھی تھے اور کتابت کا معاوضہ اس طرح ادا ہو تا تھا کہ شامی اپنے ساتھ کاتبوں کو کھانے میں شریک کر لیا کرتے تھے۔معاوضہ یہ ہو تا تھا کہ اپنے ساتھ کھانا کھلا دیا لیکن حضرت ابی ایک وقت بھی ان کی دعوت منظور نہ کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے ایک دن ان سے دریافت کیا کہ ملک شام کا کھانا کیسا ہوتا ہے ؟ حضرت اُبی نے کہا میں ان کے ہاں کھانا نہیں کھاتا میں تو اپنا ہی کھاتا ہوں۔' تمام غزوات میں شمولیت رہے۔281 حضرت ابی غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیم کے ساتھ شریک 282 غزوہ احد میں ایک تیر آپ کی رگ پر لگا، ایسی مین (main) رگ جس کو medium vein کہتے ہیں جو سر ، سینے ، پشت اور ہاتھ پاؤں وغیرہ تک خون پہنچاتی ہے۔اس پہ لگا تو آنحضرت صلی علیم نے ایک طبیب بھیجا، علاج کرنے والے کو بھیجا جس نے رگ کاٹ دی۔پھر اس رگ کو اپنے ہاتھ سے داغ دیا۔283