اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 49
تاب بدر جلد 4 49 نے اسے کیوں چھوڑ دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب اس کے پاس گیا تو اس کے منہ سے ایک ایسا فقرہ نکلا جس سے مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ مرد نہیں عورت ہے۔ان کے ساتھی نے کہا۔بہر حال وہ سپاہیوں کی طرح فوج میں لڑرہی تھی پھر آپ نے اسے چھوڑا کیوں ؟ ابودجانہ نے کہا میرے دل نے برداشت نہ کیا کہ میں رسول کریم صلی الی نیکی کی دی ہوئی تلوار کو ایک کمزور عورت پر چلاؤں۔حضرت مصلح موعودؓ پھر فرماتے ہیں کہ غرض آپ میلی لی کام عورتوں کے ادب اور احترام کی ہمیشہ تعلیم دیتے تھے جس کی وجہ سے کفار کی عورتیں زیادہ دلیری سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی تھیں مگر پھر بھی مسلمان ان باتوں کو برداشت کرتے چلے جاتے تھے۔مشہور مستشرق سر ولیم میور لکھتے ہیں 118 119 ابودجانہ کے متعلق مشہور مستشرق سرولیم میور لکھتے ہیں کہ جنگ کی ابتدا میں محمد صلی للہ ہم نے اپنی تلوار لی اور فرمایا کون یہ تلوار اس کے حق کے ساتھ لے گا؟ عمر، زبیر اور بہت سے صحابہ نے لینے کی خواہش کی لیکن رسول اللہ صلی ال ہم نے منع کر دیا۔آخر میں ابو دجانہ نے عرض کیا تو محمدصلی علیم نے ان کو دے دی اور انہوں نے اس کے ساتھ کافروں کے سر تن سے جدا کرنے شروع کرد دیئے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ ”مسلمانوں کے خطرناک حملوں کے سامنے مکی لشکر کے پاؤں اکھڑنے لگ گئے۔قریش کے رسالے نے کئی دفعہ یہ کوشش کی کہ اسلامی فوج کے بائیں طرف عقب سے ہو کر حملہ کریں مگر ہر دفعہ ان کو ان پچاس تیر اندازوں کے تیر کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہاں خاص طور پر متعین کیے ہوئے تھے۔مسلمانوں کی طرف سے احد کے میدان میں بھی وہی شجاعت و مردانگی اور موت و خطر سے وہی بے پروائی دکھائی گئی جو بدر کے موقعہ پر انہوں نے دکھائی تھی۔مکہ کے لشکر کی صفیں پھٹ پھٹ جاتی تھیں جب اپنی خود کے ساتھ سرخ رویال باند ھے ابو جانہ ان پر حملہ کرتا تھا اور اس تلوار کے ساتھ جو اسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دی تھی چاروں طرف گویا موت بکھیر تا جاتا تھا۔حمزہ اپنے سر پر شتر مرغ کے پروں کی تلفی لہراتا ہوا ہر جگہ نمایاں نظر آتا تھا۔علی اپنے لمبے اور سفید پھریرے کے ساتھ اور زبیر اپنی شوخ رنگ کی چمکتی ہوئی زرد پگڑی کے ساتھ بہادر ان الیڈ کی طرح جہاں بھی جاتے تھے دشمن کے واسطے موت و پریشانی کا پیغام اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔یہ وہ نظارے ہیں جہاں بعد کی اسلامی فتوحات کے ہیر و تربیت پذیر ہوئے۔یہ سارا بیان جو پہلے میں نے پڑھا ہے یہ سیرت خاتم النبیین میں ہے۔120❝ لڑنے کا حق ادا کیا ہے حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الی یکم احد سے لوٹے تو اپنی بیٹی فاطمہ کو اپنی تلوار دی اور فرمایا اے بیٹی ! اس سے خون کو دھو دو۔حضرت علی نے بھی اپنی تلوار ان کو دی اور کہا اس سے بھی خون دھو دو۔اللہ کی قسم ! آج اس نے میر ا خوب ساتھ دیا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی یکم نے فرمایا