اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 570
تاب بدر جلد 4 ہوئے۔570 حضرت سہیل کے ساتھ ان کے دوسرے بھائی حضرت صفوان بن بیضاء بھی غزوہ بدر میں شامل 1294 تمام غزوات میں شامل جب آپ غزوہ بدر میں شامل ہوئے اس وقت آپ کی عمر 34 سال تھی۔غزوہ احد اور خندق اور تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیم کے ہمراہ تھے۔ان کے تیسرے بھائی سہل مشرکین کی طرف سے غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔رسول اللہ صلی الم نے ان کا نماز جنازہ مسجد نبوی میں ادا کیا علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ سہل مکہ میں اسلام لائے لیکن کسی سے اپنا مسلمان ہونا ظاہر نہیں کیا۔قریش انہیں بدر میں ساتھ لے گئے اور پھر وہ گرفتار ہوئے تو حضرت ابن مسعود نے ان کے بارے میں گواہی دی کہ میں نے انہیں مکہ میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔اس پر وہ آزاد کر دیئے گئے پھر مدینہ میں ان کی وفات ہوئی اور آپ کا اور حضرت سہیل کا جنازہ رسول کریم صلی علیکم نے مسجد میں پڑھایا۔نبی اکرم صلی ای کمی کی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی سعادت حضرت سہیل بن بیضاء روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ یکم نے غزوہ تبوک کے سفر میں انہیں سواری پر پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم نے بلند آواز سے فرمایا اے سہیل ! اور آنحضرت صلی للی کم نے تین مرتبہ یوں فرمایا تو ہر مرتبہ حضرت سہیل نے عرض کیا لبیک یارسول اللہ۔یہاں تک کہ لوگوں نے بھی جان لیا کہ رسول اللہ صلی علیکم کی ان سے مراد ہے۔اس پر جو لوگ آگے تھے وہ آپ کی طرف لیکے اور جو پیچھے تھے وہ بھی آپ کے قریب ہو گئے۔یہ بھی لوگوں کو بلانے کا، متوجہ کرنے کا انداز تھا۔جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی الل ولم نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں تو ایسے شخص پر اللہ آگ کو حرام کر دے گا۔1295 اب یہ تاریخ کی کتاب ہے اور یہ مسلمان پڑھتے ہیں کہ یہ مسلمان ہونے کی بھی ایک تعریف ہے لیکن ان کے معمل اس کے خلاف نہیں اور اس بات پر جو ان کے فتوے ہیں وہ بھی ان باتوں کے خلاف ہیں۔حرمت شراب کا اعلان اور والہانہ لبیک و اطاعت حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی شراب نہ ہوتی تھی سوائے تمہاری فضیخ یعنی کھجور کی شراب کے۔یہی وہ شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو۔کہتے ہیں میں ایک دفعہ کھڑا ابو طلحہ اور فلاں فلاں کو شراب پلا رہا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کیا تمہیں خبر پہنچی ہے ؟ کہنے لگا کیا خبر ؟ اس نے کہا کہ شراب حرام کی گئی ہے۔وہ لوگ جن کو یہ شراب پلا رہے تھے حضرت انس کو کہنے