اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 548
بدر جلد 4 548 صاحب لکھتے ہیں کہ غزوہ احزاب کی ذلت بھری ناکامی کی یاد نے قریش مکہ کے تن بدن میں آگ لگارکھی تھی اور طبعاً یہ قلبی آگ زیادہ تر ابو سفیان کے حصے میں آئی تھی جو مکہ کار کیس تھا اور احزاب کی مہم میں خاص طور پر ذلت کی مار کھا چکا تھا۔کچھ عرصے تک ابوسفیان اس آگ میں اندر ہی اندر جلتا رہا مگر بالآخر معاملہ اس کی برداشت سے باہر نکل گیا اور اس آگ کے مخفی شعلے باہر آنے شروع ہوئے، ان کا اظہار ہو نا شروع ہو گیا۔طبعا کفار کی سب سے زیادہ عداوت بلکہ در حقیقت اصل عداوت آنحضرت صلی علی کم کی ذات کے ساتھ تھی اس لیے اب ابو سفیان اس خیال میں پڑ گیا کہ جب ظاہری تدبیروں اور حیلوں اور جنگوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو کیوں کسی مخفی تدبیر سے، کسی بہانے سے، کسی حیلے سے) حضرت محمد مصطفی صلی علیم کا خاتمہ نہ کر دیا جائے، کیوں ایسی تدبیر نہ کی جائے۔وہ یہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی الی یکم کے اردگرد کوئی خاص پہرہ نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات آپ بالکل بے حفاظتی کی حالت میں اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے۔شہر کے گلی کوچوں میں پھرتے تھے۔مسجد نبوی میں روزانہ کم از کم پانچ وقت نمازوں کے لیے تشریف لاتے تھے اور سفر وں میں بالکل بے تکلفانہ اور آزادانہ طور پر رہتے تھے۔اس سے زیادہ اچھا موقع کسی کرایہ دار قاتل کے لیے کیا ہو سکتا تھا؟ یہ خیال آنا تھا کہ ابوسفیان نے اندر ہی اندر آنحضرت صلی اللہ یکم کے قتل کی تجویز پختہ کرنی شروع کر دی۔جب وہ پورے عزم کے ساتھ اس ارادے پر جم گیا تو اس نے ایک دن موقع پا کر اپنے مطلب کے چند قریشی نوجوانوں سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا جواں مرد نہیں جو مدینے میں جا کر خفیہ خفیہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کام تمام کر دے؟ تم جانتے ہو کہ محمد کھلے طور پر مدینے کی گلی کوچوں میں پھرتا ہے۔(جس طرح بھی اس نے اپنی زبان میں آنحضرت صلی علی کیم کے متعلق کہا) ان نوجوانوں نے اس خیال کو سنا اور لے اڑے۔(ان کے دل میں یہ بات رچ گئی ) یہ بات نکلے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک بدوی نوجوان ابوسفیان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے آپ کی تجویز سنی ہے۔کسی نوجوان نے بتادی اور میں اس کے لیے حاضر ہوں۔میں ایک مضبوط دل والا اور پختہ کار انسان ہوں جس کی گرفت سخت اور حملہ فوری ہوتا ہے۔اگر آپ مجھے اس کام کے لیے مقرر کر کے میری مدد کریں تو میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے کی غرض سے جانے کے لیے تیار ہوں اور میرے پاس ایک ایسا خنجر ہے جو شکاری گدھ کے مخفی پروں کی طرح رہے گا یعنی بہت چھپا ہوا ہے، چھپا کے ایسی حالت میں رکھوں گا۔سو میں محمد صلی علی کم پر حملہ کروں گا اور پھر بھاگ کر کسی قافلے میں مل جاؤں گا اور مسلمان مجھے پکڑ نہیں سکیں گے اور میں مدینے کے رستے کا بھی خوب ماہر ہوں۔ابوسفیان بڑا خوش ہوا اس نے کہا کہ بس بس تم ہمارے مطلب کے آدمی ہو۔اس کے بعد ابوسفیان نے اسے ایک تیز رو اونٹنی اور سفر کا زادِ راہ دیا، خرچ دیا اور رخصت کیا اور تاکید کی کہ اس راز کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دینا۔ملے سے رخصت ہو کر یہ شخص دن کو چھپتا ہوا اور رات کو سفر کرتا ہوا مدینے کی طرف روانہ ہوا۔