اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 542
ناب بدر جلد 4 الله سة 542 رض قسم ! ابھی کل ہی میں نے آپ کو یہ دعا کرتے سنا تھا کہ یا اللہ اتو عمر بن الخطاب یا عمر و بن ہشام یعنی ابو جہل میں سے کوئی ایک ضرور اسلام کو عطا کر دے۔بہر حال حضرت عمرؓ نے اس بات پر حضرت خباب سے کہا کہ مجھے ابھی آنحضرت صلی علیم کا پتہ بتاؤ کہاں ہیں وہ ؟ اور تلوار بھی انہوں نے نیام میں نہیں ڈالی ہوئی تھی۔اسی طرح کھینچی ہوئی تھی۔آنحضرت صلی علیم اس زمانے میں دار ارقم میں ہوتے تھے۔چنانچہ کتاب نے انہیں وہاں کا پتہ بتادیا۔حضرت عمر وہاں گئے۔دروازے پر پہنچ کے زور سے دستک دی۔صحابہ نے دروازے کی دراڑ سے دیکھا تو دیکھا کہ حضرت عمرؓ ننگی تلوار لیے کھڑے ہیں اور یہ دیکھ کر دروازہ کھولنے میں تامل کیا۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو۔حضرت حمزہ نے بھی کہا ( حضرت حمزہ بھی وہاں موجود تھے) کہ دروازہ کھول دو۔اگر تو نیک ارادے سے آیا ہے تو بہتر ہے ورنہ اگر بد ارادہ ہو ا تو اسی کی تلوار سے اس کا سر اڑا دوں گا۔دروازہ کھولا گیا۔حضرت عمر ننگی تلوار لیے اندر داخل ہوئے۔آنحضرت صلی ا کلم نے حضرت عمرؓ کا پلو پکڑ کے کھینچا اور فرمایا عمر کس ارادے سے آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔آنحضرت صلی للہ ہم نے یہ الفاظ سنے تو خوشی سے اللہ اکبر ! کہا اور یہ لکھا ہے کہ ساتھ ہی صحابہ نے اس زور سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا کہ مکہ کی پہاڑیاں بھی گونج اٹھیں۔7 ย 1217 تو یہ حضرت سعید تھے جو حضرت عمر کے بھی اسلام لانے کا ذریعہ بنے۔اولین مہاجرین اور مواخات حضرت سعید بن زید اولین مہاجرین میں سے تھے۔مدینہ پہنچ کر حضرت رِفَاعَه بن عبد المُنْذِرِ کے ہاں ٹھہرے جو حضرت ابو لبابہ کے بھائی تھے۔رسول اللہ صلی علی ایم نے ان کی مواخات حضرت رافع بن مالک سے جبکہ ایک روایت کے مطابق حضرت ابی بن کعب سے کروائی۔بدر میں شامل نہ ہوئے لیکن نبی اکرم صلی اللہ تم نے اس میں سے حصہ دے کر شامل فرمایا حضرت سعید بن زید غزوہ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔تاہم رسول اللہ صلی الی یکم نے انہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا تھا۔1218 اور اسی وجہ سے ان سب صحابہ کو جن کو کسی نہ کسی صورت میں آنحضرت صلی الم نے شامل فرمایا یا آنحضرت صلی ایم کے ارشاد کے مطابق ان کو کسی رنگ میں بھی حصہ دے کر شامل فرمایا گیا ان کو بدری صحابہ میں شمار کیا جا رہا ہے۔ان کی جنگ بدر میں نہ شامل ہونے کی وجہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے ذکر میں بیان ہو چکی ہے تاہم یہاں بھی بیان کرنا ضروری ہے اس لیے بیان کر دیتا ہوں۔ویسے بھی اس کو دو تین مہینے گزر گئے ہیں اور یہاں بیان کرناضروری بھی ہے۔بہر حال حضرت سعید بن زید کی جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کی جو وجہ بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نیلم نے قریش کے ایک قافلے کی شام سے روانگی کا اندازہ فرمایا تو آپ نے مدینے سے اپنی روانگی سے دس روز پہلے حضرت طلحہ بن عبيد الله اور حضرت سعید بن زید کو قافلے کی خبر رسانی کے ย