اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 517
تاب بدر جلد 4 517 ن اللسان تحریک جنگ، فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت علی علیہ نے جو اس بین الا قوام معاہدہ کی رو سے جو آپ صلی علیکم کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد اہالیانِ مدینہ میں ہوا تھا، مدینہ کی جمہوری سلطنت کے آپ صدر اور حاکم اعلیٰ تھے ، آپ نے یہ فیصلہ فرمایا دیا کہ کعب بن اشرف اپنی کارروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے اور اپنے بعض صحابہ کو ارشاد فرمایا کہ اسے قتل کر دیا جاوے۔بعض حالات اور حکمت کے تقاضے کے تحت آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کعب کو بر ملاطور پر قتل نہ کیا جائے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ کوئی مناسب موقع نکال کر اسے قتل کر دیں اور یہ ڈیوٹی آپ نے قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی محمد بن مسلمین کے سپرد فرمائی اور انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کر و قبیلہ اوس کے رئیس جو سعد بن معاذ ہیں ان سے ضرور مشورہ کریں۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورہ سے ابو نائلہ اور دو تین اور صحابیوں کو اپنے ساتھ لہ کھ لیا اور کعب کے قتل کی سزا کو عملی جامہ پہنایا۔اس کی جو بھی حکمت تھی یا قتل کا طریق اختیار کیا گیا تھا اس کی تفصیل جیسا کہ میں نے کہا ہے میں گذشتہ بعض صحابہ کے ذکر میں بیان کر چکا ہوں۔1173 کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے؟ بہر حال جو حکمت اختیار کی گئی تھی اس کے تحت اس کو رات کے وقت گھر سے نکال کر قتل کیا گیا تھا۔اس کے قتل کی خبر جو مشہور ہوئی تو صبح کے وقت شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہودی لوگ سخت جوش میں آگئے۔اور دوسرے دن صبح کے وقت یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی علیم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ کعب کس کس جرم کا نہم مر تکب ہوا ہے ؟ قتل ہو ا ہے ہاں ٹھیک ہے لیکن اس کے جرم تھے جس کی سزا اس کو ملی ہے۔پھر آپ نے اجمالاً ان کو کعب کی عہد شکنی اور تحریک جنگ اور فتنہ انگیزی اور فحش گوئی اور سازش قتل و غیرہ کی کارروائیاں یاد کروائیں جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔انہیں، سب کو پتہ تھا کہ یہ سب کچھ یہ کرتا رہا ہے۔اس کے بعد آنحضرت صلی علیہم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہیے کم از کم آئندہ کے لیے امن اور تعاون کے ساتھ رہو اور عداوت اور فتنہ وفساد کا بیج نہ بوؤ۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لیے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن وامان کے ساتھ رہنے اور فتنہ وفساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا۔اور یہ نیا معاہدہ لکھا گیا۔تاریخ میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں ہے کہ اس کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے مسلمانوں پر الزام قائم کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔74 یہ سزا تھی جو اسے دی گئی اور نہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس کا انکار کیا کہ ہم نے نہیں کیا، ہمیں پتہ 1174