اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 505

تاب بدر جلد 4 505 ہیں اور وہاں اسلام سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے تو انہوں نے یہ تہدیدی خط بھیج کر مدینہ والوں کو آپ کے ساتھ جنگ کر کے اسلام کو ملیا میٹ کر دینے یا آپ کی پناہ سے دستبردار ہو کر آپ کو مدینہ سے نکال دینے کی تحریک کی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ خط جو لکھا تھا تو قریش کے اس خط سے عرب کی اس رسم پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ وہ اپنی جنگوں میں اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمن کے سارے مردوں کو قتل کر کے ان کی عورتوں پر قبضہ کر لیا کرتے تھے اور پھر ان کو اپنے لیے جائز سمجھتے تھے اور نیز یہ کہ مسلمانوں کے متعلق ان کے ارادے اس سے بھی زیادہ خطر ناک تھے کیونکہ جب یہ سزا انہوں نے مسلمانوں کے پناہ دینے والوں کو دینی تھی اور یہ ان کے لیے تجویز کی تھی کہ ہم تمہارے مردوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو اپنے لیے جائز کر لیں گے تو خود مسلمانوں کے لیے تو یقینا وہ اس سے بھی زیادہ سخت ارادے رکھتے ہوں گے۔سعد بن معاذ کا طواف اور ابو جہل کا مکالمہ بہر حال قریش مکہ کا یہ خط ان کے کسی عارضی جوش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مستقل طور پر اس کا تہیہ کر چکے تھے کہ مسلمانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دینا۔ان کو چین نہیں لینے دیں گے اور اسلام کو دنیا سے مٹاکر چھوڑیں گے۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھا ہے۔لکھتے ہیں کہ یہ تاریخی واقعہ مکہ کے خونی ارادوں کا پتہ دے رہا ہے۔وہ واقعہ اس طرح ہے جس کی بخاری میں روایت آتی ہے کہ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد سعد بن معاذ جو قبیلہ اوس کے رئیس اعظم تھے اور مسلمان ہو چکے تھے عمرہ کے خیال ہے مکہ گئے اور اپنے زمانہ جاہلیت کے دوست، پرانے زمانے میں، جاہلیت کے زمانے میں امیہ بن خلف رئیس مکہ ان کا دوست تھا۔وہ اس کے پاس جاکے ٹھہرے۔چونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ اکیلے عمرہ ادا کرنے، طواف کرنے گئے تو مکہ والے ان کے ساتھ ضرور چھیڑ چھاڑ کریں گے۔اس لیے انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لیے امید سے کہا کہ میں کعبتہ اللہ کا طواف کرنا چاہتا ہوں۔تم میرے ساتھ ہو کر ایسے وقت میں مجھے طواف کرا دو جبکہ میں علیحد گی میں امن کے ساتھ اس کام سے فارغ ہو کر اپنے وطن واپس چلا جاؤں۔چنانچہ امیہ بن خلف دو پہر کے وقت جبکہ لوگ عموماً اپنے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں سعد کو لے کر کعبہ کے پاس پہنچا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ عین اسی وقت ابو جہل بھی وہاں آنکلا اور جو نبی اس کی نظر سعد پر پڑی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا مگر اپنے غصہ کو دبا کر وہ امیر سے یوں مخاطب ہوا کہ اے ابو صفوان ! یہ تمہارے ساتھ کون شخص ہے ؟ امیہ نے کہا کہ یہ سعد بن معاذر ئیس اوس ہے۔اس پر ابو جہل نہایت غضبناک ہو کر سعد سے مخاطب ہوا کہ کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اس مرتد (نعوذ باللہ) محمد صلی علیم کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اس کی یعنی آنحضرت صلی علیہ ہم کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو ؟ کہنے لگا کہ خدا کی قسم ! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابو صفوان نہ ہوتا تو اپنے گھر والوں کے پاس بیچ کر نہ جاتا سعد بن معاذ فتنہ سے بچتے تھے مگر ان کی رگوں میں بھی ریاست کا خون تھا اور دل میں ایمانی غیرت جوش زن تھی۔کڑک کر