اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 500
تاب بدر جلد 4 500 چنانچہ وہ آپ صلی یکم کے پاس گئے اور حضور صلی علیہم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا دی۔حضرت سعد بن عثمان کی 80 سال کی عمر تھی جب ان کی وفات ہوئی۔1154 140 جس کی وفات پر رحمن خدا کا عرش جھوم اٹھا ابو عمر و حضرت سعد بن معاذ اوس قبیلہ کے رئیس اعظم انصارِ مدینہ میں وہ پوزیشن حاصل تھی جو مہاجرین مکہ میں حضرت ابو بکر کو حاصل تھی نام و نسب و کنیت حضرت سعد بن معاف۔حضرت سعد بن معاذ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبدُ الْأَشْهَل سے تھا اور آپ قبیلہ اوس کے سردار تھے۔آپ کے والد کا نام معاذ بن نعمان تھا اور والدہ کا نام گہشہ بنتِ رافع تھا جو صحابیہ رسول صلی علیہ کی تھیں۔حضرت سعد بن معاذ کی کنیت ابو عمرو تھی۔حضرت سعد بن معاذ کی بیوی کا نام ھند بنت سماک تھا جو صحابیہ تھیں۔حضرت ہند سے حضرت سعد بن معاذ کی اولاد میں عمر و اور عبد اللہ تھے۔قبول اسلام حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن حضیر نے حضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور حضرت مصعب بن عمیر بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہونے والے ستر صحابہ سے پہلے مدینہ آگئے تھے۔ان کو مدینہ بھجوایا گیا تھا۔رسول اللہ صلی املی کام کے ارشاد کے مطابق لوگوں کو اسلام طرف بلاتے اور انہیں قرآن پڑھ کر سناتے۔جب حضرت سعد بن معاذ نے اسلام قبول کیا تو بنو عبد الاشہل سے کہا کہ مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے مردوں اور عورتوں سے کلام کروں یہاں تک کہ تم اسلام قبول کر لو۔چنانچہ اس قبیلے کے سب افراد نے اسلام قبول کر لیا اور انصار میں سے بنو عبد الاشہل کا گھرانہ وہ پہلا گھرانہ تھا جس کے سب مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کیا۔حضرت سعد بن معاذ حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت اسعد بن زرارہ کو اپنے گھر لے آئے۔مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ دونوں آدمیوں کو لے آئے۔پھر وہ دونوں حضرت سعد بن معادؓ