اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 485

اصحاب بدر جلد 4 485 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی للی کم کی خدمت میں حاضر تھے کہ انصار میں سے ایک شخص آپ کے پاس آیا۔اس نے آپ کو سلام کیا۔پھر وہ انصاری پیچھے مڑا۔رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا اے انصاری بھائی ! میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا بہتر ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا۔آپ اٹھے اور ہم آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم دس سے کچھ اوپر لوگ تھے۔ہم نے نہ جوتے پہنے تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں تھیں نہ قمیض۔یعنی بڑی جلدی میں آپ کے ساتھ ساتھ چلے گئے۔کہتے ہیں کہ ہم اس قدر زمین میں چلے یہاں تک کہ ہم ان کے یعنی سعد بن عبادہ کے پاس آئے۔سارے لوگ ان کے ارد گرد اکٹھے وہ سب پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی علی کم اور آپ کے وہ اصحاب جو آپ کے ساتھ تھے ان کے الله سة قریب آگئے۔یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔اسی پہلے واقعہ کا اس روایت میں ذکر ہے۔1135 حضرت جابر بن عبد اللہ بن عمرو بن حرام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حریرہ تیار کرنے کا حکم دیا۔میں نے حریرہ تیار کیا۔حریرہ مشہور غذا ہے جو آئے اور گھی اور پانی سے بنتا ہے بلکہ ( بعض نے کہا ہے کہ) آئے اور دودھ سے بنتا ہے بہر حال یہ انہوں نے لغت حدیث میں سے جو (معنی) نکالا ہے انہوں نے کہا ہے کہ میں ان کے حکم کے مطابق وہ حریرہ رسول کریم صلی علیم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔نبی کریم صلی علیہ نام اس وقت گھر میں تھے۔آپ نے فرمایا اے جابر! کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی جی نہیں یار سول اللہ ! یہ حریرہ ہے جو میں نے اپنے والد کے حکم سے بنایا ہے۔پھر انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہو ا ہوں۔پھر میں واپس اپنے والد کے پاس آگیا۔میرے والد نے پوچھا کیا تم نے رسول اللہ صلی علیکم کو دیکھا۔میں نے کہا جی۔میرے والد نے پوچھار سول اللہ صلی علیم نے تمہیں کیا کہا ؟ میں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی العلیم نے مجھ سے پوچھا کہ اے جابر ! کیا یہ گوشت ہے ؟ میرے والد نے سن کر کہا کہ شاید رسول اللہ صل العلم کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہو۔والد صاحب نے بکری ذبح کی، اس کو بھونا اور مجھے حکم دیا کہ یہ رسول اللہ صلی یی کم کی بارگاہ میں پیش کر آؤ۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے وہ بکری رسول اللہ صلی اللی کم کی خدمت میں پیش کر دی۔رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ انصار کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے بالخصوص عبد اللہ بن عمر و بن حرام اور سعد بن عُبادہ کو۔136 انصار کے بہترین گھرانے حضرت ابو اسید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی العلیم نے فرمایا کہ انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجار ہیں۔پھر بنو عبد ا کھل۔پھر بنو حارث بن خزرج۔پھر بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی ہے۔یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ بولے اور وہ اسلام میں اعلیٰ پایہ کے تھے۔یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے یعنی کہ اچھے اعلیٰ پائے کے تھے کہ میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی الم نے انہیں ہم سے