اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 426
بدر جلد 4 426 1015 ملی ایم نے فرمایا ایک تہائی مال کی وصیت کر دو اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔بہر حال جو علم رکھنے والے ہیں اور فقہ والے بھی اس روایت سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ ایک اور سے یہ 1016 تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں ہو سکتی۔6 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ : احادیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ اپنے اخراجات نکال کر باقی سارا مال تقسیم کر دینا اسلامی حکم نہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں تجنى أَحَدُكُمْ بِمَالِهِ كُلِهِ يَتَصَدَّقُ بِهِ وَيَجْلِسُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ إِثْمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى یعنی تم میں سے بعض لوگ اپنا سارا مال صدقہ کے لیے لے آتے ہیں اور پھر لوگوں کے آگے سوال کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔صدقہ صرف زائد مال سے ہوتا ہے۔اسی طرح فرماتے ہیں إِنْ تَذَرُ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَفُونَ النَّاسَ یعنی اگر تو اپنے ورثاء کو دولت مند چھوڑ جائے تو یہ زیادہ اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ توان کو غریب چھوڑ جائے اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے رسول کریم صلی الم سے دو ثلث مال کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی مگر آپ نے انہیں منع فرمایا۔پھر انہوں نے آدھا مال تقسیم کرنا چاہا۔تو اس سے بھی منع فرمایا۔پھر انہوں نے تیسرے حصہ کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی تو اس حصہ کی آپ نے اجازت دے دی مگر ساتھ ہی فرمایا کہ یعنی تیسرے حصہ کی وصیت بھی کثیر ہے دو ثلث بھی کثیر ہے۔"القُلتُ وَالقُلتُ كَثِير۔غرض یہ خیال کہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ جو مال ضرورت سے زائد بچے اسے تقسیم کر دینا چاہیے بالکل خلاف اسلام اور خلاف عمل صحابہ ہے۔کیونکہ صحابہ کے عمل ایسے تھے۔”جن میں سے بعض کی وفات پر لاکھوں روپیہ ان کے ورثاء میں تقسیم کیا گیا۔017 ایک روایت میں بیان ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ جب میں مکہ میں بیمار ہو ا تو رسول اللہ صلی علیکم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور آپ صلی این یکم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا تو میں نے آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک اپنے دل پر محسوس کی۔آپ صلی اسلام نے ہاتھ رکھ کر مجھے فرمایا کہ تمہیں تو دل کی تکلیف ہے پس تم حارث بن كلدہ کے پاس جاؤ جو بنو ثقیف کا بھائی ہے وہ طبیب ہے اور سے کہو کہ وہ مدینے کی سات عجوہ کھجوروں کو ان کی گٹھلیوں سمیت پیس لے اور تمہیں بطور دوائی 1018 پلائے۔118 ایک روایت میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے مکے میں ایک شخص کو خاص طور پر متعین فرمایا کہ وہ حضرت سعدی کا خیال رکھے اور اسے آپ صلی علیہ ہم نے تاکید فرمائی کہ اگر حضرت سعد کے میں فوت ہو جائیں تو انہیں ہر گز کے میں نہ دفنایا جائے بلکہ مدینہ لایا جائے اور وہاں دفن کیا جائے۔19 1019