اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 414

اصحاب بدر جلد 4 414 حضرت سعد کے اسلام لانے کا واقعہ ان کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تاریکی میں ہوں اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔اچانک میں دیکھتا ہوں کہ چاند طلوع ہوا اور میں اس کی طرف چل پڑا۔کیا دیکھتا ہوں کہ مجھ سے پہلے حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت علی اور حضرت ابو بکر چاند کی طرف جارہے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کب پہنچے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بھی ابھی پہنچے ہیں۔حضرت سعد فرماتے ہیں کہ مجھے خبر مل چکی تھی کہ رسول اللہ صلی ال کی مخفی طور پر اسلام کی طرف بلا رہے ہیں۔چنانچہ میں شغبِ آخیاد میں آکر آپ کو ملا۔آخیاد سکتے میں صفا پہاڑی سے متصل ایک مقام کا نام ہے جہاں رسول اللہ صلی علی ایم نے بکریاں چرائی ہیں۔آپ عصر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تھے کہ میں پہنچ گیا اور بیعت کر کے مسلمان ہو گیا۔حضرت سعد کی بیٹی عائشہ بنت سعد روایت کرتی ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب میں مسلمان ہوا اس وقت میری عمر سترہ سال تھی۔بعض روایات میں ایمان لانے کے وقت ان کی عمر انیس سال بھی بیان ہوئی ہے۔969 اولین اسلام لانے والوں میں حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے پانچ ایسے اشخاص ایمان لائے جو اسلام میں جلیل القدر اور عالی مرتبہ اصحاب میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان میں تیسرے حضرت سعد بن ابی وقاص تھے جو اس وقت بالکل نوجوان تھے۔یہ سیرت خاتم النبیین میں جو لکھا ہے اسی سے اخذ کیا گیا ہے 968 یعنی اس وقت ان کی عمر انیس سال تھی۔یہ بنوز مرہ میں سے تھے اور نہایت دلیر اور بہادر تھے۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں عراق انہی کے ہاتھ پر فتح ہوا اور امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے 970 حضرت سعد بن ابی وقاص نے نبی کریم صلی علیم سے بہت سی روایات بیان کی ہیں۔ماں کا پیار اور دین کی خاطر حضرت سعد کی ثابت قدمی 971 حضرت سعد کے بیٹے مُضعَب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد سعد نے مجھے بیان کیا کہ میری ماں نے یعنی حضرت سعد کی ماں نے قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے کبھی بات نہیں کرے گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین کا انکار کر دے یعنی اسلام سے پھر جائیں۔چنانچہ نہ وہ کھاتیں اور نہ پیتی تھیں۔کہتے ہیں کہ میری ماں نے کہا تو بیان کیا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے والدین سے احسان کی تاکید کرتا ہے۔تم کہتے ہو ناں کہ تمہارا دین یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اپنے والدین سے احسان کرو۔اس کی تاکید کی جاتی ہے۔میں تمہاری ماں ہوں اور میں تمہیں اس کا حکم دے رہی ہوں کہ اب اس کو چھوڑو اور میری بات جو میں کہتی ہوں وہ مانو۔راوی کہتے ہیں کہ تین روز تک وہ اس حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری کی وجہ سے ان پر غشی طاری ہو گئی۔پھر ان کا بیٹا جسے عمارہ کہا جاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔پھر