اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 401

ب بدر جلد 4 401 اعلان کیا گیا تھا اس لیے کہ تو ان کو کوئی سواری مہیا کر دے تو تو نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کراؤں اور یہ جواب سن کر وہ چلے گئے اور س غم سے ان کی آنکھوں میں آنسو بہ رہے تھے کہ افسوس ان کے پاس کچھ نہیں جسے خدا کی راہ میں خرچ کریں۔تو ابن عباس کہتے ہیں کہ آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان میں یہ سالم بن عمر اور ثعلبہ بن زید شامل تھے۔926 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سورت توبہ کی اس آیت کی یعنی یہ آیت جو وَ لَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا آتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْاوَ أَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنا اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " یہ آیت اپنے اطلاق کے لحاظ سے عام ہی ہے مگر جن اشخاص کی طرف اشارہ ہے وہ سات غریب مسلمان تھے جو جہاد پر جانے کے لیے بیتاب تھے مگر اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے سامان نہیں رکھتے تھے۔یہ لوگ آنحضرت صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ افسوس ہے میں کوئی انتظام نہیں کر سکتا تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ واپس چلے گئے۔کہتے ہیں کہ ان کے چلے جانے کے بعد ( یہ روایت آتی ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد) " حضرت عثمان نے تین اونٹ دیے اور چار دوسرے مسلمانوں نے دیے۔آنحضرت صلی علیہم نے ہر ایک آدمی کو ایک ایک اونٹ دے دیا۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " قرآن نے یہ واقعہ اس لیے بیان کیا ہے تاکہ ان غریب مسلمانوں کے اخلاص کا مقابلہ کر کے دکھائے جو تھے تو مالدار اور سفر پر جانے کے ذرائع بھی رکھتے تھے مگر جھوٹے عذر تلاش کرتے تھے۔" ( کچھ لوگ ایسے تھے جو عذر تلاش کر رہے تھے اور نہیں گئے۔لیکن جو غریب تھے ان کا جذبہ بالکل اور تھا تا کہ مقابلہ ہو جائے) پھر آگے فرماتے ہیں کہ " اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مدینے میں پیچھے رہ گئے تھے وہ سب منافق نہ تھے بلکہ ان میں مخلص مسلمان بھی تھے مگر وہ اس لیے نہیں جاسکے کہ ان کے پاس جانے کے سامان نہ تھے۔"27 اس کی تفسیر میں بیان کرتے ہوئے مزید آپ نے فرمایا ہے کہ " ابو موسیٰ ان لوگوں کے سردار تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اس وقت رسول اللہ صلی علیہ ہم سے کیا مانگا تھا؟ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم !ہم نے اونٹ نہیں مانگے۔ہم نے گھوڑے نہیں مانگے۔ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پاؤں ہیں۔" جوتی بھی نہیں تھی پاؤں میں اور اتنالم باسفر پیدل نہیں چل سکتے۔" پاؤں زخمی ہو جائیں گے تو پھر جنگ لڑ نہیں سکتے۔" اگر ہم کو صرف جوتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم جو تیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پہنچ جائیں گے۔8 یہ غربت کا حال تھا۔یہ جذبہ تھا۔حضرت سالم بن عمیر حضرت معاویہ کے زمانہ تک زندہ رہے۔29۔928 92711