اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 396
اصحاب بدر جلد 4 396 وقف کر رکھا ہو گا تو انہیں چھوڑ دینا۔تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے جو اپنے برتنوں میں انواع و اقسام کے کھانے لائیں گے۔تم اگر ان میں سے کھاؤ تو بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور تم ضرور ایسی قوم کے پاس پہنچو گے جنہوں نے درمیان سے اپنے سروں کو منڈوایا ہو گا لیکن چاروں طرف سے بالوں کو لٹوں کی مانند چھوڑا ہو گا پس تم ایسے لوگوں کو تلوار کا ہلکا ساز خم لگانا اور اللہ کے نام کے ساتھ اپنا دفاع کرنا۔اللہ تعالیٰ تمہیں طعن اور طاعون کی وبا سے محفوظ رکھے۔اور پھر حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی للی نیلم نے جو تمہیں کرنے کا حکم دیا ہے وہ سب کچھ کرنا۔ان ساری باتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ کو اسلامی آداب جنگ کی تاکید فرمائی، کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہونا چاہیے وہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کو اس لشکر کی فتح پر بھی یقین تھا اس لیے آپ نے فرمایا کہ تمہیں کامیابیاں ملیں گی۔بہر حال یکم ربیع الآخر گیارہ ہجری کو حضرت اسامہ روانہ ہوئے۔حضرت اسامہ اپنے لشکر کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے حسب وصیت رسول اللہ صلی علی کل شام کے علاقہ انٹی پہنچے اور صبح ہوتے ہی آپ نے بستی کے چاروں اطراف سے ان پر حملہ کیا۔اس لڑائی میں جو شعار تھا، نعرہ تھا یا مَنْصُورُ آمِت یعنی اے مد د یافتہ !مار ڈال۔غیر معمولی فتح اور مدینہ کی طرف واپسی اس لڑائی میں جس نے بھی مسلمان مجاہدوں کے ساتھ مقابلہ کیا وہ قتل ہوا اور بہت سے قیدی بھی بنائے گئے۔اسی طرح بہت سا مال غنیمت بھی حاصل ہوا جس میں سے انہوں نے خُمس رکھ کر باقی لشکر میں تقسیم کر دیا، پانچواں حصہ رکھ کے باقی تقسیم کر دیا اور سوار کا حصہ پیدل والے سے دو گنا تھا۔اس معرکے سے فارغ ہو کر لشکر نے ایک دن اسی جگہ قیام کیا اور اگلے روز مدینہ کے لیے واپسی کا سفر اختیار کیا۔حضرت اسامہ نے مدینہ کی طرف ایک خوشخبری دینے والا روانہ کیا۔اس معرکے میں مسلمانوں کا کوئی آدمی بھی شہید نہیں ہوا۔جب یہ کامیاب اور فاتح لشکر مدینہ پہنچا تو حضرت ابو بکر نے مہاجرین و انصار کے ساتھ مدینہ سے باہر نکل کر ان کا بھر پور خیر مقدم کیا۔حضرت بریدہ جھنڈا لہراتے ہوئے لشکر کے آگے آگے چل رہے تھے۔مدینہ میں داخل ہو کر لشکر مسجد نبوی تک گیا۔حضرت اسامہ نے مسجد میں دو نفل ادا کیے اور اپنے گھر چلے گئے۔متفرق روایات کے مطابق یہ لشکر چالیس سے لے کر ستر روز تک باہر رہنے کے بعد مدینہ واپس پہنچا تھا۔جیش اسامہ کا بھیجوایا جانا مسلمانوں کے لیے بہت نفع کا موجب بنا کیونکہ اہل عرب یہ کہنے لگے کہ اگر مسلمانوں میں طاقت اور قوت نہ ہوتی تو وہ ہر گز یہ لشکر روانہ نہ کرتے۔تو اس طرح جو کفار تھے وہ بہت ساری ایسی باتوں سے باز آگئے جو وہ مسلمانوں کے خلاف کرنا چاہتے تھے۔13