اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 378
ب بدر جلد 4 378 فتح الباری میں ، علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں، علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں وضاحت کے ساتھ اس روایت کو سراسر جھوٹا قرار دے کر اس کے ذکر تک کو صداقت کی ہتک سمجھا ہے اور یہی حال دوسرے محققین کا ہے۔اور محققین پر ہی بس نہیں بلکہ ہر شخص جسے تعصب نے اندھا نہیں کر رکھا وہ اس بیان کو جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی لکھا ہے کہ ہم نے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کی بنا پر مرتب کر کے پیش کیا ہے اس لچر اور ناقابل التفات قصے پر ترجیح دے گا جسے بعض منافقین نے اپنے پاس سے گھڑ کر روایت کیا اور مسلمان مؤرخین نے جن کا کام صرف ہر قسم کی روایات کو جمع کرنا تھا اسے بغیر کسی تحقیق کے اپنی تاریخ میں جگہ دے دی اور پھر بعض غیر مسلم مؤرخین نے مذہبی تعصب سے اندھا ہو کر اسے اپنی کتاب کی زینت بنایا۔اس بناوٹی قصے کے ضمن میں یہ بات بھی یادر کھنی چاہیے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ اپنی سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ یہ زمانہ اسلامی تاریخ کا وہ زمانہ تھا جبکہ منافقین مدینہ اپنے پورے زور میں تھے اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کی سرکردگی میں ان کی طرف سے ایک با قاعدہ سازش اسلام اور بانی اسلام کو بد نام کرنے کی جاری تھی اور ان کا یہ طریق تھا کہ جھوٹے اور بناوٹی قصے گھڑ گھڑ کر خفیہ خفیہ پھیلاتے رہتے تھے یا اصل بات تو کچھ ہوتی تھی اور وہ اسے کچھ کا کچھ رنگ دے کر اور اس کے ساتھ سو قسم کے جھوٹ شامل کر کے اس کی در پردہ اشاعت شروع کر دیتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف کی سورۃ احزاب میں جس جگہ حضرت زینب کی شادی کا ذکر ہے اس کے ساتھ ساتھ منافقین مدینہ کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اور ان کی شرارتوں کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَبِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ( الاحزاب: 61) یعنی اگر منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی اور فتنہ انگیز خبروں کی اشاعت کرنے والے لوگ اپنی ان کارروائیوں سے باز نہ آئے تو پھر اے نبی ہم تمہیں ان کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی اجازت دیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے مگر تھوڑا۔اس آیت میں صریح طور پر اس قصہ کے جھوٹا ہونے کی طرف اصولی اشارہ کیا گیا ہے۔پھر جیسا کہ آگے چل کے ذکر آتا ہے اسی زمانہ کے قریب قریب حضرت عائشہ کے خلاف بہتان لگائے جانے کا بھی خطرناک واقعہ پیش آیا اور عبد اللہ بن ابی اور اس کے بد دیانت ساتھیوں نے اس افترا کا اس قدر چر چا کیا اور ایسے ایسے رنگ دے کر اس کی اشاعت کی کہ مسلمانوں پر ان کا عرصہ عافیت تنگ ہو گیا اور بعض کمزور طبیعت اور ناواقف مسلمان بھی ان کے اس گندے پروپیگنڈا کا شکار ہو گئے۔الغرض یہ زمانہ منافقوں کے خاص زور کا زمانہ تھا اور ان کا سب سے زیادہ دل پسند حربہ یہ تھا کہ جھوٹی اور گندی خبریں اڑا اڑا کر آنحضرت صلی الی ظلم اور آپ کے متعلقین کو بد نام کریں اور یہ خبریں ایسی