اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 365

صحاب بدر جلد 4 365 ضعف قوت اور قلت تدبیر اور لوگوں کے مقابلے میں اپنی بے بسی کی شکایت تیرے ہی پاس کر تا ہوں۔اے میرے خدا! تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اور کمزوروں اور بے کسوں کا تو ہی نگہبان اور محافظ ہے۔تو ہی میرا پروردگار ہے۔میں تیرے ہی منہ کی روشنی میں پناہ کا خواستگار ہو تاہوں کیونکہ تو ہی ظلمتوں کو دور کرتا اور انسان کو دنیا و آخرت کے حسنات کا وارث بناتا ہے۔ہے جو عتبه و شیبہ اس وقت اپنے اس باغ میں موجود تھے۔جب انہوں نے آپ صلی اللہ علم کو اس حال میں دیکھا تو دور و نزدیک کی رشتہ داری ہے یا قومی احساس سے یانہ معلوم کسی اور خیال سے ، بہر حال اپنے عیسائی غلام عداس نامی کے ہاتھ ایک کشتی میں کچھ انگور لگا کر آپ کے پاس بھجوائے۔آپ نے لے لیے اور عد اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ اور کس مذہب کے پابند ہو ؟ اس نے کہا کہ میں نینوا کا ہوں اور مذہبا عیسائی ہوں۔آپ صلی علیم نے فرمایا کہ کیا وہی نینوا جو خدا کے صالح بندے یونس بن متی کا مسکن تھا؟ عد اس نے کہا۔اس نے پھر آپ سے پوچھا کہ ہاں مگر آپ کو یونس کا حال کیسے معلوم ہوا؟ آپ صلی یم نے فرمایا کہ وہ میر ابھائی تھا کیونکہ وہ بھی اللہ کا بی تھا اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔پھر آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی جس کا اس پر اثر ہوا اور اس نے آگے بڑھ کر جوش اخلاص میں آپ صلی الیکم کے ہاتھ چوم لیے۔اس نظارے کو دور سے کھڑے کھڑے عتبہ اور شیبہ بھی دیکھ رہے تھے۔چنانچہ جب عداس ان کے پاس واپس گیا تو انہوں نے کہا عد اس تجھے کیا ہوا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ چومنے لگا۔یہ شخص تو تیرے دین کو خراب کر دے گا حالانکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔طائف سے واپس مکہ تشریف آوری اور مطعم بن عدی کی ایک نیکی اس کے بعد پھر تھوڑی دیر آنحضرت صلی علیکم نے اس باغ میں آرام فرمایا اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے اور نخلہ میں پہنچے جو مکہ سے ایک منزل کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں کچھ دن قیام کیا۔اس کے بعد نخلہ سے روانہ ہو کر آپ کوہ حرا پر آئے اور چونکہ سفر طائف کی بظاہر ناکامی کی وجہ سے مکہ والوں کے زیادہ دلیر ہو جانے کا اندیشہ تھا اس لیے یہاں سے آپ نے مظعم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔کیا تم مجھے اس کام میں مدد دے سکتے ہو ؟ مطعم پکا کا فر تھا مگر طبیعت میں شرافت تھی اور ایسے حالات میں انکار کرناشر فائے عرب کی فطرت کے خلاف تھا کہ اگر کوئی پناہ طلب کرے تو اس کو پناہ نہ دیں۔بہر حال عربوں میں اُس زمانے میں بھی، جاہلیت میں بھی یہ خصوصیت تھی۔اس لیے اس نے اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور سب مسلح ہو کر کھبے کے پاس کھڑے ہو گئے اور آپ کو کہلا بھیجا کہ آجائیں ہم آپ کو پناہ دیتے ہیں۔آپ صلی علیکم آئے اور کعبہ کا طواف کیا اور وہاں سے مظعم اور اس کی اولاد کے ساتھ تلواروں کے سایہ میں اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔راستہ میں ابو جہل نے مظعہ کو اس حالت میں دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگا کہ کیا تم نے محمدصلی الی ایم کو صرف پناہ دی ہے یا اس کے تابع ہو گئے ہو ؟ مظعم نے کہا۔میں صرف پناہ دینے والا ہوں۔تابع نہیں ہوں۔اس پر ابو جہل نے کہا۔