اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 327

ناب بدر جلد 4 327 نبوت کا دعویدار ہے اور وہ کہتا ہے جو بھی وہ کہتا ہے یعنی جو بھی اس کا دعوی ہے وہ اپنے دعویٰ کے متعلق کہتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا وہ میں ہی ہوں۔پھر کہتے ہیں میں نے کہا کہ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسلام کے بارے میں بتایا اور پوچھا کہ آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ہم نے کہا انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں کس نے پید اکیا ہے ؟ ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ بت کس نے پیدا کیے ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟ ہم نے کہا یہ ہم نے خود بنائے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر پیدا کرنے والا عبادت کا زیادہ حق دار ہے یاوہ جن کو پیدا کیا گیا ہے۔پھر تو تم زیادہ حقدار ہو کہ تمہاری عبادت کی جائے کیونکہ تم بتوں کے پیدا کرنے والے ہو اور پھر آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کی عبادت اور اس کی گواہی کی طرف بلاتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور آپس میں صلہ رحمی کرنے اور دشمنی کو چھوڑ دینے کی طرف بلاتا ہوں جو لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ہو۔ہم نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم جس چیز کی طرف آپ بلاتے ہیں اگر جھوٹی ہوئی تو بھی یہ عمدہ باتیں ہیں اور احسن اخلاق ہیں۔آپ ہماری سواری کو سنبھالیں یہاں تک کہ ہم طواف کر آئیں۔مُعاذ بن عفراء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بیٹھے رہے۔رِقائد بن رافع کہتے ہیں پس میں بیت اللہ کا طواف کرنے گیا۔میں نے سیات تیر نکالے اور ایک تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقرر کر لیا جو اُن کا طریقہ تھا۔دل کی تسلی کے لیے یہ تیروں سے شگون لیا کرتے تھے۔کہتے ہیں پھر بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا مانگی۔اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جس چیز کی طرف بلاتے ہیں اگر وہ حق ہے تو ساتوں بار انہی کا تیر نکال۔میں نے سات بار قرعہ ڈالا اور ساتوں بار آپ کا ہی تیر نکلا۔میں زور سے بولا۔اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ۔پس لوگ میرے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے یہ شخص مجنون ہے، صالی ہو گیا ہے۔میں نے کہا بلکہ مومن آدمی ہے۔یعنی جس کی تم باتیں کر رہے ہو وہ تو مجنون ہے، صافی ہے لیکن میں نے کہا نہیں بلکہ مجھے تو لگتا ہے مومن آدمی ہے۔پھر میں مکہ کے بالائی علاقے میں آگیا۔پس جب معاذ نے مجھے دیکھا تو کہارِ فائہ ایسے نورانی چہرے کے ساتھ آرہا ہے جیسا کہ جاتے وقت نہ تھا یعنی کلمہ پڑھنے سے پہلے وہ نورانی چہرہ نہیں تھا جیسا کہ اب ہے۔پس میں آیا اور اسلام قبول کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سورہ یوسف اور اقرا باسم رَبَّكَ الَّذِی خَلَقَ پھر ہم واپس آگئے۔773 حضرت رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن میری آنکھ میں تیر لگا جس کی وجہ سے میری آنکھ پھوٹ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ پر اپنا لعاب لگایا اور میرے لیے دعا کی تو مجھے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔774