اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 14

11 14 صحاب بدر جلد 4 حضرت ابو اليسر كعب بن عمرو نام و نسب اور کنیت ان کی کنیت ابو الیسر تھی اور ابو الیسر کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا۔والد ان کے عمرو بن عباد تھے۔والدہ کا نام نسیبه بنتِ از هر تھا وہ قبیلہ سَلَمہ سے ہی تھیں۔آپ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوہ بدر میں بھی شرکت کی۔غزوہ بدر کے روز آپ نے حضرت عباس کو گرفتار کیا تھا۔آپ ہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں مشرکین کا جھنڈا ابو عزیز بن عمیر کے ہاتھ سے چھین لیا تھا۔آپ رسول اللہ صلی اللی نیلم کے ساتھ دیگر غزوات میں بھی شامل رہے۔آنحضور صلی الی کمی کے بعد جنگ صفین میں بھی حضرت علی کے ساتھ شامل ہوئے۔45 جنگ بدر میں حضرت عباس کو قیدی بنانے والے ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عباس کو غزوہ بدر میں قیدی بنانے والے حضرت عبید بن اؤس تھے۔46 بہر حال حضرت ابن عباس سے مروی ہے ، حضرت ابن عباس یہ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر کے روز جس شخص نے حضرت عباس کو گر فتار کیا تھا اس کا نام ابو الیسر تھا۔ابو اليسر اس وقت دبلے پتلے آدمی تھے۔غزوہ بدر کے وقت آپ میں برس کے جواں سال تھے جبکہ حضرت عباس بھاری بھر کم جسم کے مالک تھے۔آنحضور صلی الم نے حضرت ابو الیسر سے دریافت کیا کہ تم نے عباس کو کس طرح اسیر کر لیا، کس طرح قیدی بنالیا ؟ تم تو بالکل دبلے پتلے اور وہ بڑے لمبے چوڑے قد کے ہیں اور جسیم ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ یارسول اللہ صلی علیم ایک شخص نے میری مدد کی تھی جس کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی بعد میں دیکھا ہے اور اس کا حلیہ ایسا ایسا تھا۔اس کا حلیہ بیان کیا جس پر رسول للہ صل الیم نے فرمایا کہ لَقَدْ آعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكَ كَرِيمٌ۔یقینا اس میں تیری ایک معزز فرشتے نے مدد کی ہے۔47 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ بدر کے روز رسول اللہ صلی الی الم نے فرمایا کہ جس نے دشمن کو قتل کیا اس کے لئے فلاں فلاں کچھ ہو گا۔پس مسلمانوں نے ستر مشرکین کو قتل کیا اور ستر مشرکین کو قید بھی کیا۔حضرت ابو اليسر دو اسیروں کو لائے اور عرض کی یارسول اللہ صلی علیکم آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا