اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 276

تاب بدر جلد 4 276 گا۔فاطمہ نے کہا مگر تم نجس ہو، ناپاک ہو اور قرآن کو پاکیزگی کی حالت میں ہاتھ لگانا چاہیے۔پس تم پہلے غسل کر لو تو پھر دکھا دوں گی اور پھر دیکھ لینا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ غالباً ان کا منشا یہ بھی ہو گا کہ غسل کرنے سے عمر کا غصہ بالکل فرو ہو جائے گا اور وہ ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔جب عمر غسل سے فارغ ہوئے تو فاطمہ نے قرآن کے اوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیے۔انہوں نے اٹھا کر دیکھا تو سورۃ طہ کی ابتدائی آیات تھیں۔حضرت عمرؓ نے ایک مرعوب دل کے ساتھ انہیں پڑھنا شروع کیا اور ایک ایک لفظ اس سعید فطرت کے اند رگھر کیے جاتا تھا اپنا اثر دکھا رہا تھا۔پڑھتے پڑھتے جب حضرت عمرؓ اس آیت پر پہنچے کہ اِنَّنِي أَنَا اللهُ لا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَ أَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ أَكَادُ أَخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعى ( 15:14-16) یعنی میں ہی اس دنیا کا واحد خالق و مالک ہوں میرے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں۔پس تمہیں چاہیے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور میری ہی یاد کے لیے اپنی دعاؤں کو وقف کر دو۔دیکھو ! موعود گھڑی جلد آنے والی ہے مگر ہم اس کے وقت کو مخفی رکھے ہوئے ہیں تا کہ ہر شخص اپنے کیے کا سچا سچابدلہ پاسکے۔جب حضرت عمرؓ نے یہ آیت پڑھی تو گویا ان کی آنکھ کھل گئی اور سوئی ہوئی فطرت چونک کر بیدار ہو گئی۔بے اختیار ہو کر بولے۔یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے۔حباب نے یہ الفاظ سنے تو فور آباہر نکل آئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور کہا۔یہ رسول اللہ صلی علیم کی دعا کا نتیجہ ہے کیونکہ خدا کی قسم ! ابھی کل ہی میں نے آپ کو یہ دعا کرتے سنا تھا کہ یا اللہ ! تو عمر ابن الخطاب یا عمر و بن ہشام یعنی ابو جہل میں سے کسی ایک کو ضرور اسلام عطا کر دے۔حضرت عمر کو اب ایک ایک پل گر اں تھی۔اس کلام کو پڑھنے کے بعد آنحضرت صلی علیم کے مقام کو پہچاننے کے بعد ان کے لیے اب یہاں تک رہنا بڑا مشکل ہو رہا تھا۔انہوں نے خبابے سے کہا کہ مجھے ابھی محمد صلی علی کم کا راستہ بتاؤ وہ کہاں ہے۔مگر کچھ ایسے آپے سے باہر ہو رہے تھے کہ تلوار اسی طرح نگی کھینچ رکھی تھی۔یہ خیال نہیں آیا کہ تلوار بھی میان میں ڈال لیں۔نگی تلوار کو اسی طرح ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔بہر حال اس زمانے میں آنحضرت صلی علی کرم دار ار قم میں مقیم تھے۔چنانچہ حباب نے انہیں وہاں کا پتہ بتادیا۔عمر وہاں گئے اور دروازے پر پہنچ کر زور سے دستک دی۔صحابہ نے دروازے کی دراڑ میں سے عمر کو ننگی تلوار تھامے ہوئے دیکھ کر دروازہ کھولنے میں تامل کیا، ہچکچاہٹ کی مگر آنحضرت صلی لی ایم نے فرمایا۔دروازہ کھول دو اور حضرت حمزہ نے بھی کہا، حضرت حمزہ بھی وہاں تھے کہ دروازہ کھول دو۔اگر نیک ارادے سے آیا ہے تو بہتر ورنہ اگر نیت بد ہے تو واللہ اسی کی تلوار سے اس کا سر اڑا دوں گا۔دروازہ کھولا گیا۔عمر ننگی تلوار ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوئے۔ان کو دیکھ کر آنحضرت صلی یکم آگے بڑھے اور عمر کا دامن پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور کہا عمر کس ارادے سے آئے ہو ؟ واللہ میں دیکھتا ہوں کہ تم خدا کے عذاب کے لیے نہیں بنائے گئے۔آنحضرت صلی الی یکم نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم خدا کے عذاب کے لیے نہیں بنائے گئے۔عمرؓ نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے یہ الفاظ سنے تو خوشی سے جوش میں اللہ اکبر کہا اور ساتھ ہی صحابہ رض