اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 237
تاب بدر جلد 4 237 نشانی ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ مقتول ہونے کے لئے تیار رہتا ہے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو کہہ دیا جاوے کہ یا نصرانی ہو جایا قتل کر دیا جائے گا۔اس وقت دیکھنا چاہئے کہ اس کے نفس سے کیا آواز آتی ہے ؟ آیاوہ مرنے کے لئے سر رکھ دیتا ہے یا نصرانی ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔اگر وہ مرنے کو ترجیح دیتا ہے تو وہ مومن حقیقی ہے ورنہ کا فر ہے۔غرض ان مصائب میں جو مومنوں پر آتے ہیں اندر ہی اندر ایک لذت ہوتی ہے۔بھلا سوچو تو سہی کہ اگر یہ مصائب لذت نہ ہوتے تو انبیاء علیہم السلام ان مصائب کا ایک دراز سلسلہ کیونکر گزارتے۔568 حضرت حرام بن ملحان کے بارے میں آیا ہے، ان کی نسل آگے نہیں چلی۔69 حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ حضرت انس نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام بن ملحان کو جو اتم سلیم کے بھائی تھے ستر سواروں کے ساتھ بنو عامر کی طرف بھیجا اور عامر بن طفیل مشرکوں کا سر دار تھا۔جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا تھا۔اس نے کہا تھا قصباتی لوگ آپ کے ہوں گے اور دیہاتی میرے یا یہ کہ میں آپ کی وفات کے بعد آپ کا جانشین ہوں گاور نہ میں دو ہزار غطفان کے آدمیوں کو لے کر آپ پر حملہ کر دوں گا۔تو عامر کسی عورت کے گھر طاعون میں مبتلا ہو ا۔کہنے لگا یہ ویسے ہی گلٹیوں کی بیماری ہے جو آلِ سلول کی ایک عورت کے گھر میں جوان اونٹ کو ہوئی تھی۔میرا گھوڑا لاؤ۔وہ اس پر سوار ہوا اور اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی مر گیا۔آخر یہ اس کا انجام ہوا۔اس کے بارے میں انہوں نے شروع میں ذکر کر دیا۔پھر روایت میں اس کا بھی اور اس کے قبیلے کا بھی ذکر یہ ملتا ہے کہ حضرت ام سلیم کے بھائی حضرت حرام بن ملحان ، ایک لنگڑے آدمی اور ایک اور آدمی کو جو فلاں قبیلہ سے تھا اپنے ساتھ لے کر بنو عامر کے پاس گئے۔حرام نے ان دونوں سے کہا۔تم قریب ہی رہنا۔میں ان کے پاس جاتا ہوں۔اگر انہوں ا نے مجھے امن دیا تو تم آجانا اور اگر مجھے قتل کر دیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاکر انہیں بتانا۔حضرت حرام نے عامر کے پاس جا کر کہا کیا تم مجھے امن دیتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا دوں۔یہ کہہ کر وہ اس سے باتیں کرنے لگے۔قبیلے کے لوگوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا وہ ان کے پیچھے سے آیا اور ان کو تاک کر نیزہ مارا جو اُن کے جسم سے آر پار ہو گیا۔حضرت حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زخموں سے نکلنے والا خون ہاتھ میں لیا اور اپنے منہ پر ملتے ہوئے کہا اللهُ اكْبَرُ افُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ- اللہ اکبر ! کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے اپنی مراد پالی پھر وہ لوگ دوسرے آدمی کے پیچھے چلے اور اسے مار ڈالا اور پھر باقی قاریوں پر جا کر حملہ کر دیا اور وہ سارے کے سارے مارے گئے سوائے اس لنگڑے آدمی کے جو پہاڑ کی چوٹی پر چلا گیا تھا۔اللہ نے ہم پر وہ بات نازل کی۔پھر اس کا ذکر اذکار موقوف ہو گیا یعنی ہماری طرف سے ہماری قوم کو کہہ دو کہ ہم