اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 235
235 79 صحاب بدر جلد 4 حضرت حرام بن ملحان الله سة دوسروں کو قرآن سکھانے اور اصحاب صفہ کی خدمت میں پیش پیش رہنے والے پھر تاریخ ہمیں ایک اور صحابی کے متعلق بتاتی ہے جن کا نام حرام بن ملحان تھا۔یہ نوجوان نوجوانوں اور دوسروں کو قرآن سکھانے اور غریبوں اور اصحاب صفہ کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔جب بنی عامر کے ایک وفد نے آنحضرت صلی علیم سے درخواست کی کہ ہمیں تبلیغ کے لئے کچھ لوگ بھیجیں تاکہ ہمیں بھی اسلام کا پتہ چلے اور ہمارے لوگ اسلام میں داخل ہوں۔نیت ان کی اس وقت بھی خراب تھی لیکن بہر حال انہوں نے یہ درخواست کی۔یہ لوگ قابل اعتبار نہیں تھے اس لئے آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ مجھے تم لوگوں سے خطرہ ہے کہ جس کو میں بھیجوں گا اسے شاید تمہارے لوگ نقصان پہنچائیں تو ان کے سردار نے کہا۔وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا۔لیکن کہنے لگا کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں۔میں ذمہ دار ہوں گا اور سارے میری امان میں ہوں گے۔آنحضرت صلی الم نے پھر ایک وفد بنی عامر کی طرف بھیجا۔حرام بن ملحان کو امیر مقرر کیا۔جب یہ وفد وہاں پہنچا تو حضرت حرام بن ملحان کو شک ہوا کہ ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔ان کے طور کوئی صحیح نظر نہیں آرہے تھے۔دور سے پتا لگ رہا تھا کہ ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ احتیاطی تدبیر کرنی چاہئے اور سب کو وہاں اکٹھے نہیں جانا چاہئے کیونکہ اگر انہوں نے گھیر لیا تو سب کو ایک ہی وقت میں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اس لئے تم سب یہیں رہو اور میں اور ایک اور ساتھی جاتے ہیں۔اگر تو انہوں نے ہم سے صحیح سلوک کیا تو تم لوگ بھی آجانا اور اگر ہمیں نقصان پہنچایا تو پھر تم لوگ حالات کے مطابق فیصلہ کرنا کہ کیا کرنا ہے۔واپس جانا ہے یا ان سے لڑنا ہے یا وہیں رہنا ہے۔بہتے ہوئے خون کو اپنے ہاتھوں پر لے کر کہا رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا جب یہ حرام بن ملحان اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے قریب گئے تو بنی عامر کے سردار نے ایک آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے حرام بن ملحان پر نیزے سے حملہ کیا۔ان کی گردن سے خون کا فوارہ نکلا۔انہوں نے اس خون کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور کہا کہ رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔اور بعد میں پھر ان کے دوسرے ساتھی کو بھی شہید کر دیا گیا اور پھر با قاعدہ حملہ کر کے باقی جو ستر لوگ تھے ، ان سب کو شہید کر دیا سوائے ایک یا دو کے جو بچے۔جب ان لوگوں کو ظالمانہ طور پر دھو کے سے شہید کیا جارہا تھا تو انہوں نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ایک تو ہماری یہ