اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 198 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 198

ناب بدر جلد 4 الله سة 198 حضرت جبار نے بیان کیا کہ اس پر میں کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ میں یہ خدمت سر انجام دوں گا۔آپ نے فرمایا جاؤ۔پس میں آثایہ پہنچا اس کے حوض کو مرمت کر کے اسے کھلا کیا اور اسے بھر دیا۔پھر مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا اور مجھے نہیں جگایا مگر اس شخص نے جس کی اونٹنی اس سے چھوٹی جارہی تھی۔( یعنی کہ بہت تیز وہاں پر پہنچی) اور وہ اسے حوض پر جانے سے روک رہا تھا۔(اونٹنی پانی کی طرف جا رہی تھی) اس شخص نے مجھے کہا اے حوض والے ! اپنے حوض پر پہنچو تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رسول اللہ صلی امید کم ہیں۔میں نے عرض کیا جی۔یہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضور نے اپنی سواری کو گھاٹ پر اتارا۔پھر آپ مڑے اور سواری کو بٹھایا۔پھر آپ نے فرمایا برتن لے کر میرے ساتھ آؤ۔میں برتن لے کر آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔آپ صلی للی کم نے اچھی طرح وضو فرمایا۔میں نے بھی آپ کے ساتھ وضو کیا پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔وہاں پہنچنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام یہ فرمایا کہ وضو کیا اور نفل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔کہتے ہیں کہ میں بائیں طرف کھڑا ہوا تو آنحضرت صلی علی کریم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا۔یعنی آنحضرت کے نفل پڑھتے ہوئے انہیں یہ خیال آیا کہ آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھ نفل پڑھنے چاہئیں تو یہ بائیں طرف کھڑے ہو گئے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ ہم نے فورا ہاتھ پکڑ کے دائیں طرف کر دیا کہ جب باجماعت نماز ہو رہی ہو اور دو شخص ہوں تو دوسرے کو امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔کہتے ہیں پس ہم نے نماز پڑھی اور ابھی ہم نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ باقی لوگ بھی آگئے۔غزوہ بدر کے روز آنحضرت صلی اسلام نے دعا فرمائی کہ اللهُمَّ اكْفِنِي نَوْفَلَ ابْنِ خُوَيْلِدٍ۔کہ اے اللہ ! نوفل بن خویلد جو کہ قریش مکہ کے مشرکین کا ایک سردار تھا، کے مقابل میرے لئے کافی ہو جا۔حضرت جبار بن صفر نے اسے قیدی بنایا ہوا تھا اور حضرت علی اس کے پاس آئے اور اسے قتل کر دیا۔پھر آپ صلی علیہم نے دریافت فرمایا کہ کسی کو نوفل کی کچھ خبر ہے ؟ حضرت علی نے عرض کیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس پر آپ نے یہ دعا کی کہ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی جناب سے میری دعا قبول فرمائی۔یہ بڑا شدید دشمن تھا۔اس کے لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کو کہا تھا میرے لئے کافی ہو جا۔اللہ تعالیٰ نے پھر اس کے قتل کے سامان پیدا کئے۔493 492 نبی اکرم صلی الم کی مدینہ تشریف آوری اور اہل مدینہ کا میزبانی کے لئے جوش و جذبہ پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی ا ہم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو ہر شخص کو خواہش تھی کہ آپ صلی علی کم اس کے گھر قیام کریں۔اس کے بارے میں بہت سارے حوالے آتے ہیں۔لیکن آپ صلی علیم نے فرمایا کہ جہاں میری اونٹنی بیٹھے گی وہیں میرا قیام ہو گا۔جب اونٹنی مدینہ کی گلیوں سے گزری تو ہر شخص نے آپ صلی اللہ ہم سے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی علیکم! ہماری طرف قیام کریں۔لیکن آپ