اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 193
ناب بدر جلد 4 193 جذع کہا جاتا ہے اور چھت کا شہتیر اور بیم جو ہے اس کو بھی کہا جاتا ہے۔بہر حال بڑے مضبوط دل کے مالک تھے اور مضبوط عزم و ہمت کے مالک تھے اس لئے ان کا لقب الجذع پڑ گیا۔حضرت ثعلبہ بن زید کے متعلق اس کے علاوہ کوئی روایت محفوظ نہیں ہے۔482 58 نام و نسب حضرت تعلبه بن عمر و انصاری حضرت ثعلبہ بن عمر و حضرت تغلبہ کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام گنیشہ تھا جو کہ مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت کی بہن تھیں۔تمام غزوات میں شمولیت حضرت تغلبہ غزوہ بدر سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی کم کے ہمراہ شریک ہوئے۔آپ ان اصحاب میں بھی شامل تھے جنہوں نے بنو سلمہ کے بت توڑے تھے۔وفات آپ کی وفات حضرت عمررؓ کے دورِ خلافت میں جنگ جسر یعنی پل والی جنگ میں ہوئی تھی۔جنگ جسر جنگ جسر ایرانیوں کے ساتھ 14 ہجری میں ہوئی یا طبری میں 13 ہجری کا درج ہے کہ یہ جنگ ہوئی تھی۔اس جنگ میں دونوں فریق یعنی حضرت ابو عبیڈ کی نگرانی میں مسلمانوں کا لشکر اور برہمن جَازَوَیہ کی نگرانی میں ایرانی فوج دریائے فرات پر آمنے سامنے تھیں۔دریا کو عبور کر کے جنگ کرنے کے لئے ایک جسر یعنی پل بنایا گیا تھا۔اسی مناسبت سے اسے جنگ جسر کہا جاتا ہے۔بعض کے نزدیک ان کی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں مدینہ میں ہوئی تھی۔483