اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 192

تاب بدر جلد 4 192 کیونکہ آپ بدری صحابی تھے اور بدری صحابہ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے کھلا بخشش کا اعلان فرمایا ہوا ہے اور ان میں منافقت اور کسی قسم کی کمزوری نہیں ہو سکتی تھی۔علامہ ابن حجر عسقلانی یہ لکھتے ہیں کہ ابن قلبی کے قول سے اس بات میں فرق یقینی ہو جاتا ہے کہ بدری صحابی احد میں شہید ہو گئے جس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن مردویہ نے عطیہ کی سند سے بحوالہ ابن عباس مذکورہ آیت کے متعلق اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے جو فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا جسے ثعلبہ بن ابی حاطب کہا جاتا تھا وہ انصار میں سے تھا ان کی ایک مجلس میں آکر کہنے لگا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے نوازے پھر، یہ سارا طویل قصہ جو بیان ہے بیان کیا۔یہ ثعلبہ بن ابی حاطب ہے اور بدری صحابی کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ وہ ثعلبہ بن حاطب ہیں اور یہ روایت پایہ ثبوت تک پہنچی کہ آپ صلی ال کلم نے فرمایا تھا کہ جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے ان میں سے کوئی مسلمان بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔نیز وہ ایک حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے فرمایا جو چاہے کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی۔تو یہ لکھتے ہیں کہ جس کا یہ مرتبہ ہو اسے اللہ تعالیٰ دل میں نفاق کا بدلہ کیسے دے گا ؟ دل میں اگر نفاق ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ جنت میں جانے کا بدلہ ملے۔پھر لکھتے ہیں کہ اور جو کچھ نازل ہوا اس کے متعلق کیسے نازل ہو سکتا ہے جس کے دل میں نفاق ہو ! لہذا یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وہ اس شخصیت کے علاوہ ہیں۔0 یعنی حضرت ثعلبہ جو تھے وہ نہیں تھے یہ اور تھے۔یہ پہلے شہید ہو گئے تھے۔اور جس کا ذکر ہے وہ ثعلبہ بن ابی حاطب ہے۔اپ نام ملتے جلتے ہیں اس لئے یہ غلط فہمی ہوئی۔اس لئے ثعلبہ بن حاطب اور ثعلبہ بن ابی حاطب دو مختلف شخصیتیں ہیں۔پس یہ غلط فہمی کسی بدری صحابی کے بارے میں کبھی نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی ہو گی۔اللہ جزا دے علامہ ابن حجر عسقلانی کو کہ انہوں نے بھی اس مسئلہ کو بڑا کھول کے بیان کر دیا اور اس بدری صحابی پہ جو الزام لگ رہا تھا ان کی اس تاریخی روایت سے ہی ان کی بریت ثابت ہو گئی۔181 480 57 حضرت ثعلبہ بن زید باپ بیٹا جو جنگ بدر میں شامل ہوئے حضرت ثعلبہ بن زید۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو خزرج سے ہے۔غزوہ بدر میں یہ شامل ہوئے تھے۔حضرت ثابت بن الجذع کے والد تھے۔حضرت ثعلبہ بن زید کا لقب الجذع ہے۔الجذع آپ کی مضبوطی قلب اور مضبوط عزم و ہمت کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی جو مضبوط تنا، درخت کا تنا ہو اس کو بھی