اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 152
تاب بدر جلد 4 152 کا ذکر ہو رہا ہے اور انصار سے یوں مخاطب ہوئے کہ اے انصار ! اللہ کی قسم !! گو ہمیں مشرکوں سے جہاد کرنے میں دین میں سبقت کے لحاظ سے مہاجرین پر فضیلت ہے۔یہ ہم نے محض رضائے الہی، اطاعت، رسول اور اپنے نفسوں کی اصلاح کے لیے کیا تھا۔ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم اب فخر و مباح سے کام لیں اور دینی خدمات کے بدلے میں ایسے اجر کے طالب ہوں جس میں دنیا طلبی کی بو آتی ہو۔ہماری جزا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہی ہمارے لیے کافی ہے۔رسول اللہ صلی للی نیم قریش میں سے تھے اور وہی لوگ اس خلافت کے حقدار ہیں۔اللہ نہ کرے کہ ہم ان سے جھگڑے میں مبتلا ہوں۔اے انصار ! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور مہاجرین سے اختلاف نہ کرو۔ان سب باتوں کے بعد پھر حضرت حباب بن مُنْذِر نے انصار کی اہمیت کا ذکر کر نا شروع کر دیا لیکن حضرت عمرؓ نے پھر صور تحال کو سنبھالا۔میں مختصر قصہ بیان کر رہا ہوں اور حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ہماری بیعت لیں اور ساتھ ہی حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کرلی اور عرض کی کہ اے ابو بکر ! آپ کو رسول اللہ صلی علیم نے حکم دیا تھا کہ آپ نماز پڑھایا کریں۔پس آپ ہی خلیفة اللہ ہیں۔ہم آپ کی بیعت اس لیے کرتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی علیہم کے ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔حضرت عمرؓ کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے بیعت کی اور پھر انصار میں سے حضرت بشیر بن سعد نے فوراً بیعت کر لی۔اس کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاری نے بیعت کی اور حضرت ابو بکر کا ہاتھ تھام کر انصار سے مخاطب ہوئے اور انہیں بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کرنے کی ترغیب دی۔چنانچہ انصار نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔وفات یہ بیعت اسلامی لٹریچر میں بیعت سقیفہ اور بیعت خاصہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔381 380 379 حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ خلافت میں 12 ہجری میں حضرت بشیر حضرت خالد بن ولید کے معرکہ عین القمر میں شریک ہوئے اور آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔عَيْنُ الشمر کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے۔مسلمانوں نے 12 ہجری میں حضرت ابو بکر کے عہد خلافت میں اس علاقے کو فتح کیا تھا۔382 ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں۔۔۔حضرت ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں تھے کہ رسول الله علی کم ہمارے پاس تشریف لائے۔حضرت بشیر بن سعد نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں تو ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں۔راوی کہتے ہیں اس سوال پر رسول اللہ صلی للی یکم خاموش رہے۔لمبا عرصہ خاموش رہے۔یہاں تک کہ ہم نے خواہش کی کہ کاش وہ آپ سے سوال نہ کرتا۔