اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 151
اصحاب بدر جلد 4 151 بیعت خلافت راشدہ اور ابتدائی تفصیلات یہاں جا کر معلوم ہوا کہ بنو خزرج جانشینی کے دعویدار ہیں اور بنو اوس اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔آپس میں یہ مدینہ کے انصار کے دونوں قبیلے تھے۔ایسے موقع پر ایک انصاری صحابی نے نبی کریم کی تعلیم کا یہ قول یاد کرایا کہ حکمران تو قریش میں سے ہی ہوں گے جو اس وقت اس بحث کے دوران لوگوں کی اکثریت کے دلوں میں اتر گیا۔انصار اپنے دعوے سے دستبردار ہو گئے اور سب نے فوراً ہی ابو بکر کی خلافت پر بیعت کر لی مگر اس کے باوجود حضرت ابو بکر صدیق تین دن تک یہ اعلان کراتے رہے کہ آپ سقیفہ بنی ساعدہ کی بیعت سے آزاد ہیں۔اگر کسی کو اعتراض ہے تو بتا دے مگر کسی کو اعتراض نہیں ہوا یہ تو ایک ماخذ ہے۔ڈاکٹر حمید اللہ کی کتاب سے ایک جگہ مختصر یا یہ ذکر کیا گیا ہے۔377 لیکن اس کی ایک تفصیل جو ہے وہ مزید اس طرح ہے کہ : جب یہ سارا کچھ واقعہ ہوا آپس میں میٹنگیں ہو رہی تھیں۔منافقین انصار کو ابھارنے کی کوشش کر رہے تھے تو حضرت عمرؓ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق وہاں پہنچے پر انصار نے آپ کے سامنے پھر اپنی رائے کا اظہار کیا۔حضرت ابو بکر صدیق نے بھی اپنی رائے ظاہر فرمائی۔اس تمام کارروائی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انصار و مہاجرین سب اسلام کے مفاد میں ہی سوچتے تھے۔منافقین تو سوچ رہے ہوں گے کہ ہم فتنہ پیدا کریں لیکن انصار میں سے بھی جو مومنین تھے وہ تو مفاد میں سوچ رہے تھے کہ خلافت کا یا امامت کا قیام ضروری ہے خواہ وہ انصار میں سے ہو یا مہاجرین میں سے اور آنحضرت صلی اللہ عیہ وسلم کے بعد خلافت کو چاہتے تھے اور اسی کی ان کو خواہش تھی اور وہ ایک دن بھی بغیر جماعت اور امیر کے نہیں گزارنا چاہتے تھے۔چنانچہ ایک رائے یہ تھی کہ انصار میں سے امیر ہو۔دوسری رائے یہ تھی کہ مہاجرین میں سے امیر ہو کیونکہ ان کے بغیر عرب کسی کی سربراہی قبول نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ تیسری رائے یہ بھی تھی کہ دو امیر ہوں۔ایک انصار میں سے اور ایک قریش میں سے۔یہاں مہاجرین نے انصار کو یہ بھی بتایا کہ اس وقت قریش میں سے ہی امیر ہونا ضروری ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے موقف کی تائید میں آنحضرت صلی للی کمر کے بعد قریش میں امامت کے قیام سے متعلق آپ کی یہ پیشگوئی بھی پیش کی جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ الائمة من قریش کہ امام قریش میں سے ہوں گے۔378 حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے انصار کو مخاطب کر کے کہا کہ اے انصار مدینہ ! تم وہ ہو جنہوں نے سب سے بڑھ کر خود کو اس دین کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا اور اب اس وقت تم سب سے پہلے اسے بدلنے اور بگاڑنے والے نہ بنو۔یہ نہ کہو کہ انصار میں سے امیر ہو یا دونوں میں سے امیر ہو۔اس حقیقت سے بھرے ہوئے پیغام سے انصار نے اثر لیا اور ان میں سے حضرت بشیر بن سعد اٹھے جن صحابی