اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 114
اصحاب بدر جلد 4 114 289 خطاب، حضرت ابو ایوب انصاری، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابوموسیٰ اشعری، حضرت انس بن مالک، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت سہل بن سعد، حضرت سلیمان بن صر ڈ یہ سب بھی حضرت ابی سے علم حدیث میں استفادہ کرتے تھے۔حضرت قیس بن عبادہ مدینے میں صحابہ سے ملنے آئے۔ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے بڑھ کر کسی کو نہ پایا۔نماز کا وقت تھا۔لوگ جمع تھے اور حضرت عمررؓ بھی تشریف رکھتے تھے۔کسی چیز کی تعلیم دینے کی ضرورت تھی۔نماز ختم ہوئی تو حضرت ابی اٹھے اور رسول اللہ صلی علیم کی حدیث لوگوں تک پہنچائی۔ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ تمام لوگ ہمہ تن گوش تھے۔قیس پر حضرت ابی کی اس شان عظمت کا بڑا اثر ہوا۔290 قرآن سے فقہی مسائل کا حل۔۔۔حاملہ کی عدت حضرت عمرؓ کے پاس ایک عورت آئی۔اس نے کہا کہ میرا شوہر مر گیا ہے۔میں حاملہ ہوں۔قرآن کریم کی رو سے استنباط اور فقہی مسائل بھی یہ حل کیا کرتے تھے تو بہر حال حاملہ عورت آئی۔اس نے کہا کہ میر اخاوند مر گیا ہے۔اب حمل وضع ہوا ہے۔جب فوت ہو حاملہ تھی اب وضع حمل ہو گیا ہے لیکن عدت کے ایام ابھی پورے نہیں ہوئے جو خاوند کے فوت شدہ ہونے کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت ہے وہ پوری نہیں ہوئی لیکن میں حمل میں تھی اور اس سے پہلے میر اوہ حمل ہو گیا ہے۔اس صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ کیا میں عدت ابھی پوری کروں یا یہ کافی ہے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ معین میعاد تک رکی رہو۔یعنی ایک بیوہ عورت کے لیے عدت کی جو معین میعاد ہے اس کو پورا کر و۔وہ حضرت عمرؓ کے پاس سے حضرت ابی کے پاس آئی اور ان سے مسئلہ پوچھا۔حضرت عمر سے فتویٰ پوچھنے کا حال بیان کیا اور جو حضرت عمر کا جواب تھا وہ حضرت اُبی کو بتایا۔حضرت اُبی نے کہا کہ جاؤ اور حضرت عمرؓ سے کہنا کہ اُبی کہتا ہے کہ عورت حلال ہو گئی یعنی اب عدت کی ضرورت نہیں ہے۔اگر وہ میرے بارے میں پوچھیں تو میں یہیں بیٹھا ہوا ہوں آ کر بلا لینا۔وہ عورت حضرت عمرؓ کے پاس گئی۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ حضرت ابی کو بلا کے لاؤ۔حضرت ابی آئے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا آپ نے یہ کہاں سے کہا ہے ؟ آئی نے جواب دیا قرآن سے اور یہ آیت پڑھی وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ اور جہاں تک حمل والیوں کا تعلق ہے ان کی عدت وضع حمل ہے۔اس کے بعد کہا جو حاملہ بیوہ ہو گئی ہو وہ بھی اس میں داخل ہے اور میں نے رسول کریم صلی علی نام سے اس کے متعلق حدیث سنی ہے۔حضرت عمرؓ نے عورت سے کہا کہ جو یہ کہہ رہے ہیں اس کو سنو یعنی یہ ٹھیک ہے۔جس طرح حضرت ابی کہتے ہیں اس پر عمل کرو۔مسجد نبوی کی توسیع اور ابی بن کعب کا حضرت عمر اور حضرت عباس کے معاملہ میں حکم بننا رسول اللہ صلی علیم کے چا حضرت عباس کا گھر مسجد نبوی سے متصل تھا۔حضرت عمرؓ نے مسجد کو