اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 110
110 اصحاب بدر جلد 4 تیسری مرتبہ مجھے جواب دیا کہ اسے سات قراء توں پر پڑھ لو۔پس ہر سوال کے بدلے جس کا میں نے تجھے جواب دیا ہے ایک دعا کا تجھے حق دیا گیا ہے یعنی اس فرشتے نے کہا۔جبرئیل نے کہا اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام ہے کہ ہر قراءت کے بدلے دعا کا حق دیا گیا ہے۔جو تُو مجھ سے مانگ سکتا ہے تب میں نے عرض کیا، آنحضرت صلی علیکم فرمارہے ہیں کہ تب میں نے عرض کیا کہ اے اللہ !میری امت کو بخش دے۔اے اللہ ! میری امت کو بخش دے۔اور تیسری دعائیں نے اس دن کے لیے چھوڑ رکھی ہے جس دن ساری مخلوق میری طرف رغبت کرے گی یہاں تک کہ ابراہیم بھی۔276 جبرئیل نے کہا تھا کہ ابی کو قرآن سناد بیجیے حضرت ابی بن کعب کو فن قراءت میں جو کمال حاصل تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ خود آنحضرت صلی للہ نام ان سے قرآن کا دور کرواتے تھے۔چنانچہ جس سال آپ نے وفات پائی حضرت آئی " کو قرآن سنایا اور فرمایا مجھ سے جبرئیل نے کہا تھا کہ ابی کو قرآن سنا دیجیے۔277 آنحضرت صلی اللی الم نے حضرت ابی کو قرآن سنایا۔آنحضرت صلی الم کے زمانہ مبارک میں حضرت اُئی ایک ایرانی کو قرآن پڑھاتے تھے۔جب اس کو یہ آیت پڑھائی اِنَّ شَجَرَتَ الرَّقُومِ طَعَامُ الْآثِيْمِ تو اس سے آٹیم ادانہ ہو تا تھا۔ایرانی کا تلفظ تھا۔وہ ث کے لفظ کو صحیح طرح ادا نہیں کر سکتا تھا۔ہر دفعہ جب یہ اشیم کہتے تو وہ یتیم کہہ دیتا تھا۔حضرت اُئی نہایت پریشان تھے کہ کس طرح اس کو سکھاؤں۔آنحضرت صلی للی کم کا وہاں سے گزر ہوا اور ان کی پریشانی دیکھ کر ٹھہر گئے اور جب یہ بات سنی تو ایرانی زبان میں فرمایا اسے یہ کہو کہ طَعَامُ الظَّائِم یہ ظ سے۔اس نے جب اس طرح اس کو کہا تو اس نے صاف طور پر ادا کر دیا اور اشیم کہہ دیا۔انہوں نے ظائِم کہا تھا تو اس نے اشیم کہہ دیا اور صحیح تلفظ ادا کر دیا۔اس پر آپ نے حضرت ابی سے فرمایا کہ اس کی زبان درست کرو۔جس طرح اس کی زبان ہے اس زبان میں اس کو بتاؤ تا کہ وہ صحیح تلفظ سے قرآن کریم پڑھ سکے اور اس سے حرف نکلواؤ، خدا تمہیں اس کا اجر دے گا۔278 خطبہ میں نہیں بولنا چاہیے تھا ایک مرتبہ آنحضرت صلی علی یکم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے اور سورہ براءت تلاوت فرمائی۔یہ سورہ حضرت ابو درداء اور ابو ذر کو معلوم نہ تھی۔اثنائے خطبہ میں حضرت ابی سے اشارہ سے پوچھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی ہے ؟ میں نے تو اب تک نہیں سنی تھی۔حضرت اُبی نے اشارے سے کہا خاموش رہو۔نماز کے بعد جب اپنے گھر جانے کے لیے اٹھے تو دونوں بزرگوں نے حضرت اُبی سے کہا کہ تم نے ہمارے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا تھا ؟ جواب میں اُبی نے کہا آج تمہاری نماز بیکار ہو گئی ہے اور وہ بھی محض ایک لغو حرکت کی وجہ سے۔یہ سن کر وہ لوگ آنحضرت صلی علیم کے پاس پہنچے اور بیان کیا کہ ابی ایسا کہتے ہیں۔رض