اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 102

اصحاب بدر جلد 4 102 حضرت ابو عبیدہ نے اس موقع پر سوال کیا کہ اللہ کی تقدیر سے فرار ممکن ہے ؟ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہ سے فرمایا اے ابو عبیدہ اکاش تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی۔ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار ہوتے ہوئے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔کیونکہ ایک تقدیر سے دور جارہے ہیں لیکن دوسری تقدیر بھی اللہ کی ہے اس طرف جارہے ہیں۔فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ان کو لے کر ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں۔ایک سر سبز ہو اور دو سر اخشک ہو تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر تم اپنے اونٹوں کو سر سبز جگہ پر چراؤ تو وہ اللہ کی تقدیر سے ہے اور اگر تم ان کو خشک جگہ پر چر اؤ تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہے۔راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی آگئے جو پہلے اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس اس مسئلے کا علم ہے۔میں نے رسول اللہ صلی علی کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ، حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا میں نے آنحضرت صلی علیم سے یہ سنا ہے کہ جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں کوئی وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر کوئی مرض کسی ایسی جگہ پر پھوٹ پڑے جہاں تم رہتے ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے باہر بھی مت نکلو۔اس پر حضرت عمر نے اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔252 طاعون عمواس کے بارے میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ جب شام تشریف لے گئے اور وہاں طاعون پڑ گئی جو طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہے اور حضرت ابو عبیدہ اور اسلامی لشکر نے آپ کا استقبال کیا تو اس وقت صحابہ نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے اس لیے آپ کو واپس تشریف لے جانا چاہیے۔حضرت عمرؓ نے ان کے مشورہ کو قبول کر کے فیصلہ کر لیا کہ آپ واپس لوٹ جائیں گے۔حضرت ابو عبیدہ ظاہر پر بڑا اصرار کرنے والے تھے۔انہیں جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ أَتَفِرُّ مِنَ القضاء کیا آپ قضائے الہی سے بھاگ رہے ہیں ؟ حضرت عمر نے کہا أَفِرُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ إِلى قَدَرِ اللهِ میں اللہ تعالیٰ کی قضا سے اس کی قدر کی طرف بھاگ رہا ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فیصلہ ہے اور ایک عام فیصلہ۔یہ دونوں فیصلے اسی کے ہیں۔کسی اور کے نہیں۔پس میں اس کے فیصلہ سے بھاگ نہیں رہا بلکہ اس کے ایک فیصلہ سے اس کے دوسرے فیصلہ کی طرف جا رہا ہوں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمر کو جب طاعون کی خبر ملی اور آپ نے مشورہ کے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ شام میں تو پہلے بھی طاعون پڑا کرتی ہے۔پھر لوگ ایسے موقعے پر کیا کیا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب طاعون پھیلتی ہے تو لوگ بھاگ کر ادھر اُدھر چلے جاتے ہیں اور طاعون کا زور ٹوٹ جاتا ہے“ یعنی بجائے شہر میں رہنے کے ارد گرد کے علاقوں میں باہر کھلی جگہوں پر چلے جاتے ہیں۔”اسی مشورہ کی طرف آپ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک عام قانون بھی بنایا ہوا ہے کہ جو شخص طاعون کے مقام سے بھاگ کر ادھر اُدھر کھلی ہوا میں چلا جائے وہ بچ جاتا ہے۔پس جبکہ یہ قانون بھی خدا۔