اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 98
اصحاب بدر جلد 4 98 اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ ہم نوجوان بچ جائیں اور صحابہ مارے چائیں۔اب مسلمان ہوئے تو ایک ایمانی جوش تھا۔اللہ تعالی کی خاطر جان قربان کرنے کی ایک تڑپ تھی۔عکرمہ نے بار بار یہ اجازت چاہی کہ وہ چار سو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے لشکر کے مرکزی حصہ پر حملہ کریں۔آخر حضرت ابو عبیدہ نے ان کے اصرار پر انہیں اجازت دے دی۔اس پر انہوں نے لشکر کے مرکزی حصے پر حملہ کیا اور اسے شکست دے دی لیکن اس لڑائی میں ان میں سے اکثر نوجوان شہید ہو گئے اور مسلمان رومیوں کو ان کی خندقوں کی طرف دھکیلتے ہوئے لے گئے جو ان رومیوں نے اپنے پیچھے بنائی ہوئی تھیں۔چونکہ انہوں نے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھا بھی ہو ا تھا تا کہ کوئی دوڑ نہ سکے اس لیے وہ پے در پے ان خندقوں میں گرتے گئے۔ایک گرتا تھا تو دس اور بھی لے کے ساتھ ہی گرتا تھا۔اسی ہزار کفار پیچھے ہٹتے ہوئے دریائے یرموک میں ڈوب کر مر گئے۔ایک لاکھ رومیوں کو مسلمانوں نے میدانِ جنگ میں قتل کیا۔مسلمان تین ہزار کے قریب شہید ہوئے۔یہ تھی جنگ پر موک۔7 حضرت مصلح موعود کا عکرمہ کو خراج تحسین 247 حضرت مصلح موعود خاص طور پر اس کے خاتمے کے وقت کے بارے میں کچھ بیان فرماتے ہیں کہ جب جنگ ختم ہوئی تو مسلمانوں نے خاص طور پر عکرمہ اور ان کے ساتھیوں کو تلاش کیا تو کیا دیکھا کہ ان آدمیوں میں سے بارہ شدید زخمی ہیں۔ان میں ایک عکرمہ بھی تھے۔ایک مسلمان سپاہی ان کے پاس آیا اور عکرمہ کی حالت دیکھی ، بڑی خراب تھی۔اس نے کہا اے عکرمہ امیرے پاس پانی کی چھاگل ہے تم کچھ پانی پی لو۔عکرمہ نے منہ پھیر کر دیکھا تو پاس ہی حضرت عباس کے بیٹے حضرت فضل زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔عکرمہ نے اس مسلمان سے کہا کہ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی الی یوم کی اس وقت مدد کی جب میں آپ کا شدید مخالف تھا وہ اور ان کی اولاد تو پیاس کی وجہ سے مر جائے اور میں پانی پی کر زندہ رہوں۔ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا ایک نیا جذبہ پیدا تھا۔اس لیے پہلے انہیں یعنی حضرت فضل بن عباس کو پانی پلالو۔اگر کچھ بچ جائے تو پھر میرے پاس لے آنا۔وہ مسلمان حضرت فضل کے پاس گیا۔انہوں نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ پہلے اسے پانی پلاؤ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔وہ اس زخمی کے پاس گیا تو اس نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے پہلے اسے پلاؤ پانی۔اس طرح وہ جس سپاہی کے پاس جاتا وہ اسے دوسرے کے پاس بھیج دیتا اور کوئی نہ پیتا جب وہ آخری زخمی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔وہ واپس دوسرے کی طرف آیا یہاں تک کہ عکرمہ تک پہنچا مگر وہ سب فوت ہو چکے تھے۔18 حضرت ابو عبیدہ کا حسن اانتظام شام کے لوگ مختلف مذاہب کے پیرو تھے۔زبانوں کا اختلاف تھا۔ان کی نسلیں مختلف تھیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے ان میں عدل و مساوات قائم کیا۔داخلی امن وسکون بحال کیا۔ہر ایک کو 248