اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 97
اصحاب بدر جلد 4 97 آج تمہارا مقابلہ ہے اور تم نے پیٹھ نہیں دکھانی۔اگر کامیاب ہو تاد دیکھو تو اپنی جگہ پر ہی بیٹھی رہنا۔اگر دیکھو کہ مسلمان پیچھے ہٹ رہے ہیں تو ان کے مونہوں پر چوبیں مارنا اور پتھر برسا کر انہیں میدان جنگ میں واپس بھیجا اور اپنے بچے اوپر اٹھانا اور ان سے کہنا کہ جاؤ اور اپنے اہل و عیال اور اسلام کی خاطر جانیں دو۔اس کے بعد آپنے مردوں سے یوں مخاطب ہوئے۔اللہ کے بندو! خدا کی مدد کے لیے آگے بڑھو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو ثبات عطا کرے گا۔اے اللہ کے بندو! صبر کرو کہ صبر ہی کفر سے نجات کا ذریعہ ، خدا کو راضی کرنے کا سبب اور عار کو دھونے والا ہے۔اپنی صفوں کو مت توڑنا، لڑائی کی ابتدا تم نہ کرنا، نیزوں کو تان لو، ڈھالوں کو سنبھال لو اور زبانوں کو خدا کے ذکر سے تر رکھو تا خدا اپنی منشا کو پورا کرے۔لڑائی کی ابتدا نہیں کرنی لیکن جب جنگ، حملہ ہو جائے تو پھر پیٹھ نہیں دکھانی۔دشمنوں کے لشکر کے آگے اس وقت سونے کی صلیب تھی اور ان کے اسلحے کی چمک آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہی تھی۔دوسرے وہ سر سے لے کے پیر تک لوہے میں ڈوبے ہوئے تھے یعنی زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔انہوں نے اس دن اپنے پیروں میں بیڑیاں بھی پہن لی تھیں کہ ہم میدانِ جنگ سے بھاگیں گے نہیں۔یا مار دیں گے یا مر جائیں گے۔پادری انجیل کے اقتباسات پڑھ کر انہیں جوش دلا رہے تھے۔لشکر کفار سمندر کی لہروں کی طرح آگے بڑھا۔دو اڑھائی لاکھ کی فوج تھی۔یہ صرف تیس ہزار تھے۔اور جنگ شروع ہوئی۔ابتدا میں رومیوں کا پلڑا بھاری رہا اور انہوں نے مسلمانوں کو دھکیلنا شروع کیا۔خصوصاً صحابہ کو نشانہ بنانے کی سازش عیسائیوں نے مخفی طور پر یہ پتہ کر لیا تھا کہ مسلمانوں میں صحابی کون کون سے ہیں اور پھر انہوں نے اپنے کچھ تیر انداز ایک ٹیلے پر بٹھا دیے اور انہیں ہدایت کر دی کہ وہ اپنے تیروں سے خصوصیت کے ساتھ صحابہ کو نشانہ بنائیں۔وہ جانتے تھے کہ جب بڑے بڑے لوگ مارے گئے تو باقی فوج کے دل خود بخود ٹوٹ جائیں گے اور وہ میدان سے بھاگ جائیں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کئی صحابہ مارے بھی گئے اور کئی کی آنکھیں بھی ضائع ہو گئیں۔عکرمہ بن ابو جہل کی جانفشانی یہ حالت دیکھی تو عکرمہ، ابو جہل کے بیٹے جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گئے تھے، جنہوں نے فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللی کام سے یہ عرض کی تھی کہ دعا کیجئے کہ اللہ مجھے تلافی کافات یعنی پہلے گزرے ہوئے واقعات کی تلافی کی توفیق عطا فرمائے۔وہ اپنے کچھ ساتھیوں کو ساتھ لے کر حضرت ابو عبیدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی کہ صحابہ بہت بڑی خدمات کر چکے ہیں۔اب ہم جو بعد میں آئے ہیں ہمیں ثواب حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔ہم لشکر کے قلب میں یعنی در میان والے حصہ میں حملہ کریں گے اور عیسائی جرنیلوں کو مار ڈالیں گے۔حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔اس طرح تو جتنے نوجوان جائیں گے وہ سب مارے جائیں گے۔عکرمہ نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے مگر