اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 96

اصحاب بدر جلد 4 ط 96 b ایمانی سے خائف بھی تھے اس لیے صلح کے بھی متمنی تھے ، کوشش کر رہے تھے کہ صلح بھی ہو جائے۔رومیوں کے سپہ سالار باھان نے جارج نامی رومی قاصد کو اسلامی لشکر کی طرف بھیجا۔جب وہ اسلامی لشکر میں پہنچا تو مسلمان مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔اس نے مسلمانوں کو خشوع و خضوع اور خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوتے دیکھا تو بہت متاثر ہوا۔اس نے حضرت ابو عبیدہ سے چند سوالات کیے جن میں سے ایک یہ تھا کہ حضرت عیسی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔حضرت ابو عبیدہ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی کہ يَاهْلَ الْكِتَبِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللهِ إِلَّا الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ وَرُوحُ مِنْهُ فَامِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَثَةٌ ۖ إِنْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللهُ الهُ وَاحِدٌ سُبُحْنَةَ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللهِ وكيلا (النسا: 172) کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو۔اللہ کے متعلق حق کے سوا کچھ نہ کہو۔یقیناً مسیح عیسی ابن مریم محض اللہ کا رسول ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف اتارا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے۔پس اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور تین مت کہو۔باز آؤ کہ اس میں تمہاری بھلائی ہے۔یقینا اللہ ہی واحد معبود ہے۔وہ پاک ہے اس سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بحیثیت کار ساز اللہ بہت کافی ہے۔پھر اس کے بعد اگلی آیت پڑھی لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ اَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَبِكَةُ المُقربون (النساء: 173) مسیح ہر گز اس امر کو برا نہیں منائے گا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ متصور ہو اور نہ ہی مقرب فرشتے اسے بر امنائیں گے۔جارج نے جب قرآن کریم کی اس تعلیم کو سناتو پکار اٹھا کہ بے شک مسیح کے یہی اوصاف ہیں اور کہا کہ تمہارا پیغمبر سچا ہے اور مسلمان ہو گیا۔جو نمائندہ بن کے آیا تھا اب وہ اپنے لشکر میں واپس نہیں جانا چاہتا تھا لیکن حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ رومیوں کو بد عہدی کا گمان ہو گا اس لیے تم واپس جاؤ اور فرمایا کہ کل جو سفیر یہاں سے جائے گا اس کے ساتھ آجانا۔عیسائی لشکر کو حضرت ابو عبیدہ نے اسلام کی دعوت دی اور اسلامی مساوات ، اخوت اور اسلامی اخلاق کو ان کے سامنے پیش کیا۔اگلے دن حضرت خالد ان کی طرف گئے مگر نتیجہ لا حاصل رہا اور جنگ کی تیاری شروع ہو گئی۔مسلمان عورتوں کی بہادری کے پیچھے مسلمان خواتین تھیں جو جنگ میں لشکریوں کو پانی پلاتیں، زخمیوں کی دیکھ بھال کر تیں اور غازیوں کو جوش دلاتی تھیں۔ان عورتوں میں حضرت اسماء بنت ابو بکر حضرت ہند بنت عتبہ یہ آپ ، ہی حضرت ابوسفیان کی بیوی تھیں اور فتح مکہ کے موقعے پر مسلمان ہوئی تھیں، حضرت امیر آبان وغیرہ تھیں۔حضرت ابو عبیدہ نے جنگ سے پہلے مسلمان خواتین کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے مجاہدات اخیموں کی چومیں اکھاڑ کر ہاتھوں میں لے لو۔پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لو اور مسلمانوں کو قتال کی ترغیب دو۔ان کو کہو