اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 95
تاب بدر جلد 4 فتح لاذقيه 95 اس کے بعد اسلامی لشکر نے لاذقیہ جو شام کا ایک شہر ہے اور ساحل سمندر پر واقع ہے۔حمص کے نواحی علاقوں میں اس کو شمار کیا جاتا ہے۔بہر حال اس کا محاصرہ کر لیا۔حفاظتی انتظامات کے لحاظ سے لاذقیہ بہت مستحکم تھا۔شہر والوں کے پاس رسد کے ذخائر کثرت کے ساتھ موجود تھے جن کی وجہ سے ان کو محاصرہ کی کوئی پروا نہیں تھی۔حضرت ابو عبیدہ نے اس کو فتح کرنے کی ایک نئی تدبیر نکالی۔آپ نے ایک رات میدان میں بہت سے گڑھے کھدوائے اور انہیں گھاس سے ڈھانک دیا اور صبح محاصرہ اٹھا کر حمص کی طرف روانہ ہو گئے۔ظاہر یہ کیا کہ ہم واپس جارہے ہیں۔گڑھے کھودنے کے بعد گھاس سے ڈھانکنے کے بعد محاصرہ اٹھالیا اور ساری فوج واپس ہو گئی۔شہر والوں نے اور شہر میں موجود فوجوں نے محاصرہ اٹھتے دیکھا تو خوش ہوئے اور اطمینان سے شہر کے دروازے کھول دیے۔دوسری طرف حضرت ابو عبیدہ راتوں رات اپنی فوج سمیت واپس آگئے۔رات کو ہی واپس آگئے اور ان غار نما گڑھوں میں چھپ گئے۔جو غاریں بنائی تھیں۔tunnels بنائی تھیں۔یا ٹرینچز (Trenches) بنائی تھیں ان میں چھپ گئے اور صبح جب شہر کے دروازے کھلے تو آپ نے ایک دفعہ حملہ کر دیا اور شہر میں داخل ہو کر شہر کو فتح کر لیا۔246 جنگ یرموک جنگ پر موک جو جنگ تھی وہ پر موک جو شام کے نواحی علاقے میں ایک وادی کا نام ہے اس کے نام کی وجہ سے یہ یرموک تھی۔15 / ہجری میں شام میں سب سے بڑا معرکہ پر موک کی وادی میں دریائے یرموک کے کنارے ہوا۔رومی لوگ باھان کی قیادت میں اڑھائی لاکھ کے قریب جنگجو میدان میں لائے جبکہ مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب تھی جن میں ایک ہزار صحابہ رسول صلی علی کم تھے اور ان میں ایک سو کے قریب بدری صحابہ تھے۔مشورے کے بعد مسلمانوں نے عارضی طور پر حمص میں سے اپنی فوجوں کو واپس بلایا اور وہاں کے عیسائیوں سے کہا کہ چونکہ ہم عارضی طور پر تمہاری حفاظت سے دست کش ہو رہے ہیں لہذا تمہارا جزیہ تمہیں واپس کیا جاتا ہے۔جو ٹیکس ان سے لیا جاتا تھا واپس کیا جاتا ہے کیونکہ جس مقصد کے لیے یہ جزیہ لیا جارہا ہے وہ تمہارے کام ہم نہیں کر سکتے۔چنانچہ حمص والوں کو ان کا جزیہ واپس کیا گیا۔یہ رقم کئی لاکھ کی تھی۔جب یہ رقم انہیں واپس کی گئی تو عیسائی مسلمانوں کی حقیقت پسندی اور انصاف کی وجہ سے روتے تھے اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دعائیں کرتے تھے کہ اے رحم دل مسلمان حکمر انو اخدا تمہیں پھر واپس لائے۔مسلمانوں کے حمص سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے رومیوں کی ہمت اور بھی بڑھ گئی اور وہ ایک کے ساتھ پر موک پہنچ کر مسلمانوں کے مقابلے پر خیمہ زن ہوئے لیکن دل میں وہ مسلمانوں کے جوش