اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 30
محاب بدر جلد 3 30 حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان دونوں کو اطلاع تھی اور اسی لئے انہوں نے حضرت عمر کی تجویز کو ٹال دیا تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللی کلم نے حضرت عثمان سے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کی شادی فرما دی اور اس کے بعد آپ نے خود اپنی طرف سے حضرت عمر کو حفصہ کے لئے پیغام بھیجا۔حضرت عمرؓ کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے تھا۔انہوں نے نہایت خوشی سے اس رشتہ کو قبول کیا اور شعبان تین ہجری میں حضرت حفصہ محضرت علی ایم کے نکاح میں آکر حرم نبوئی میں داخل ہو گئیں۔جب یہ رشتہ ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی ملال ہو۔بات یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللی ریم کے ارادے سے اطلاع تھی لیکن میں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے راز کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ہاں اگر آپ کا یہ ارادہ نہ ہو تا تو میں بڑی خوشی سے حفصہ سے شادی کر لیتا۔حفصہ کے نکاح میں ایک تو یہ خاص مصلحت تھی کہ وہ حضرت عمر کی صاحبزادی تھیں جو گویا حضرت ابو بکر کے بعد تمام صحابہ میں افضل ترین سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ ولیم کے مقربین خاص میں سے تھے۔پس آپس کے تعلقات کو زیادہ مضبوط کرنے اور حضرت عمررؓ اور حفصہ کے اس صدمہ کی تلافی کرنے کے واسطے جو خُنَيْس بن حذافہ کی بے وقت موت سے ان کو پہنچا تھا آنحضرت صلی ال سلیم نے مناسب سمجھا کہ حفصہ سے خود شادی فرما لیں اور دوسری عام مصلحت یہ مد نظر تھی کہ آنحضرت صلی علیم کی جتنی زیادہ بیویاں ہوں گی اتنا ہی عورتوں میں جو بنی نوع انسان کا نصف حصہ بلکہ بعض جہات سے نصف بہتر حصہ ہیں دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا کام زیادہ وسیع پیمانے پر اور زیادہ آسانی سے اور زیادہ خوبی کے ساتھ ہو سکے گا۔64 حضرت عمر اور جنگ احد حصہ حضرت عمرؓ کے حوالے سے غزوہ احد کے بارے میں لکھا ہے۔غزوۂ احد کے موقع پر جب خالد بن ولید نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان اس اچانک حملے سے سنبھل نہ سکے۔اس کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھی ہے کہ قریش کے لشکر نے قریب چاروں طرف گھیر اڈال رکھا تھا اور اپنے پے درپے حملوں سے ہر آن دباتا چلا آتا تھا۔اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیر بعد سنبھل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبد اللہ بن قمئہ نے مسلمانوں کے علمبر دار مصعب بن پر حملہ کیا جنہوں نے جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں بازو کاٹ گر ایا۔مصعب نے فوراً دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اور ابن قمئہ کے مقابلہ کے لیے آگے بڑھے مگر اس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔اس پر مصعب نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہا تھوں کو جوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا جس پر ابن قمئہ نے ان پر تیسر اوار کیا اور اب کی دفعہ مصعب شہید ہو کر گر گئے۔جھنڈا تو کسی دوسرے مسلمان نے فوراً رض