اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 445 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 445

محاب بدر جلد 3 445 حضرت علی حالت تھی اور ادھر انہوں نے اپنی قساوت قلبی کا یہاں تک ثبوت دیا کہ حضرت عثمان جیسے مقدس انسان کو جن کی رسول کریم صلی ا یمن نے بڑی تعریف کی ہے قتل کرنے کے بعد بھی نہ چھوڑا اور لاش کو تین چار دن تک دفن نہ کرنے دیا۔آخر چند صحابہ نے مل کر رات کو پوشیدہ طور پر دفن کیا۔حضرت عثمان کے ساتھ ہی کچھ غلام بھی شہید ہوئے تھے۔ان کی لاشوں کو دفن کرنے سے روک دیا اور کتوں کے آگے ڈال دیا۔حضرت عثمانؓ اور غلاموں کے ساتھ یہ سلوک کرنے کے بعد مفسدوں نے مدینہ کے لوگوں کو جن کے ساتھ ان کی کوئی مخالفت نہ تھی چھٹی دے دی اور صحابہ نے وہاں سے بھاگنا شروع کر دیا۔پانچ دن اسی طرح گزر گئے کہ مدینہ کا کوئی حاکم نہ تھا۔مفسد اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ کسی کو خود خلیفہ بنائیں اور جس طرح چاہیں اس سے کرائیں لیکن صحابہ میں سے کسی نے یہ برداشت نہ کیا کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عثمان کو قتل کیا ہے ان کا خلیفہ بنے۔مفسد حضرت علی، طلحہ اور زبیر کے پاس باری باری گئے اور انہیں خلیفہ بننے کے لیے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔جب انہوں نے انکار کر دیا اور مسلمان ان کی موجودگی میں اور کسی کو خلیفہ نہیں مان سکتے تھے تو مفسدوں نے ان کے متعلق بھی جبر سے کام لینا شروع کر دیا کیونکہ انہوں نے خیال کیا کہ اگر کوئی خلیفہ نہ بنا تو تمام عالم اسلامی میں ہمارے خلاف ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔انہوں نے اعلان کر دیا کہ اگر دو دن کے اندر اندر کوئی خلیفہ بنالیا جائے تو بہتر ورنہ ہم علی ، طلحہ اور زبیر اور سب بڑے بڑے لوگوں کو قتل کر دیں گے۔اس پر مدینہ والوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا وہ ہم سے اور ہمارے بچوں اور عورتوں سے کیا کچھ نہ کریں گے۔وہ حضرت علی کے پاس گئے اور انہیں خلیفہ بننے کے لیے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر میں خلیفہ ہوا تو تمام لوگ یہی کہیں گے کہ میں نے عثمان کو قتل کرایا ہے اور یہ بوجھ مجھ سے نہیں اٹھ سکتا۔یہی بات حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے کہی اور صحابہ نے بھی جن کو خلیفہ بننے کے لیے کہا گیا انکار کر دیا۔آخر سب لوگ پھر علی کے پاس گئے اور کہا جس طرح بھی ہو آپ یہ بوجھ اٹھائیں۔آخر انہوں نے کہا کہ میں اس شرط پر یہ بوجھ اٹھاتا ہوں کہ سب لوگ مسجد میں جمع ہوں اور مجھے قبول کریں۔چنانچہ لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے قبول کیا مگر بعض نے اس پر انکار کر دیا کہ جب تک حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزا نہ دی جائے اس وقت تک ہم کسی کو خلیفہ نہیں مانیں گے اور بعض نے کہا جب تک باہر کے لوگوں کی رائے نہ معلوم ہو جائے کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہیے مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت قلیل تھی۔اس طرح حضرت علی نے خلیفہ بننا تو منظور کر لیا مگر وہی نتیجہ ہوا جس کا انہیں خطرہ تھا۔تمام عالم اسلامی نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علی نے عثمان کو قتل کرایا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کی اگر اور تمام خوبیوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو میرے نزدیک ایسی خطر ناک حالت میں ان کا خلافت کو منظور کر لینا ایسی جرات اور دلیری کی بات تھی جو نہایت ہی قابل تعریف تھی کہ انہوں نے اپنی عزت اور اپنی ذات کی اسلام کے مقابلے میں کوئی پروا