اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 444
حاب بدر جلد 3 444 حضرت علی 881" 880 حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بد انتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لئے آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ان کے بعد اس عہدے کو قبول کریں گے۔انہوں نے ان کی بات سن کر اس غیرت دینی سے “ یعنی حضرت علی نے منافقین کی بات سن کر ” اس غیرت دینی سے کام لے کر جو آپ کے رتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور فرمایا کہ سب نیک لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی علیہ ہم نے پیشگوئی کے طور پر ذُوالْمَرْوَہ اور ذُو خُشُب (جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا) پر ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرما کر ان پر لعنت فرمائی تھی۔10 پس خدا تمہارا برا کرے تم واپس چلے جاؤ۔اس پر ان لوگوں نے کہا بہت اچھا۔ہم واپس چلے جائیں گے اور یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔حضرت عثمان کی شہادت اور اس کے بعد حضرت علی کی جو بیعت خلافت ہے اس کے بارے میں ذکر کہیں پہلے بھی میں ایک دفعہ مختصر بیان کر چکا ہوں۔882 بہر حال پہلے تفصیل سے کیا تھا۔اب یہاں تھوڑا سا واقعہ مختصر بتا دیتا ہوں۔جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو تمام لوگ حضرت علی کی طرف دوڑتے ہوئے آئے جن میں صحابہ اور دیگر لوگ بھی شامل تھے۔وہ سب یہی کہہ رہے تھے کہ علی امیر المومنین ہیں۔وہ آپ کے پاس آپ کے گھر حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں کیونکہ آپ اس بات کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔اس پر حضرت علی نے فرمایا یہ تمہارا کام نہیں ہے بلکہ یہ اصحاب بدر کا کام ہے۔پس جس کے بارے میں اصحاب بدر راضی ہوں گے وہی خلیفہ ہو گا۔اس پر سبھی لوگ حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہم کسی کو آپ سے زیادہ اس بات کا حقدار نہیں سمجھتے۔پس اپنا ہاتھ بڑھائیں کہ ہم آپ کی بیعت کریں۔آپ نے فرمایا طلحہ اور زبیر کہاں ہیں۔پھر سب سے پہلے حضرت طلحہ نے آپ کی زبانی بیعت کی اور سب سے پہلے حضرت سعد نے آپ کی دستی بیعت کی۔جب حضرت علی نے یہ دیکھا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور منبر پر چڑھے۔حضرت طلحہ سب سے پہلے شخص تھے جو حضرت علی کی طرف منبر پر چڑھے اور آپ کی بیعت کی ان کے بعد حضرت زبیر نے بیعت کی اور پھر باقی صحابہ نے بیعت کی۔683 حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد کے واقعات کا جو تذکرہ کیا ہے اس میں جس طرح آپ نے بیان فرما یا وہ یوں ہے کہ : جب حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا تو مفسدوں نے بیت المال کو لوٹا اور اعلان کر دیا کہ جو مقابلہ کرے گا قتل کر دیا جائے گا۔لوگوں کو جمع نہیں ہونے دیا جاتا تھا، کوئی اکٹھا نہیں ہو سکتا تھا۔جس طرح آج کل دفعہ 144 لگتی ہے اس طرح لگادی تھی اور مدینہ کا انہوں نے سخت محاصرہ کر رکھا تھا اور کسی کو ہر نہیں نکلنے دیا جاتا تھا یا کہنا چاہیے کرفیو جس طرح لگتا ہے اس طرح لگا دیا تھا حتی کہ حضرت علییؓ جن کی محبت کا وہ لوگ دعوی کرتے تھے ان کو بھی روک دیا گیا تھا اور مدینہ میں خوب لوٹ مچائی۔ادھر تو یہ باہر