اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 407

اصحاب بدر جلد 3 407 794" حضرت علی تعالیٰ نے نیک بنایا اور بارہ نسلوں تک برابر ان میں بارہ امام پید اہوئے۔حضرت مصلح موعود ایک جگہ حضرت علی محاذ کر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی جب ایمان لائے تو ابھی بچے ہی تھے اور وہ بھی یہ سمجھ کر ایمان لائے تھے کہ مجھے اسلام کے لیے ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے پڑیں گے۔“ بچے تھے لیکن یہ سمجھ کر ایمان لائے تھے کہ قربانی مجھے دینی پڑے گی ”یہاں تک کہ اگر جان قربان کرنے کا وقت آیا تو مجھے اپنی جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرنی پڑے گی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی الم نے اپنی رسالت کے ابتدائی ایام میں ایک دعوت کی جس میں بنو عبد المطلب کو بلایا تا کہ ان تک پیغام حق پہنچایا جائے۔چنانچہ آپ کے بہت سے رشتہ دار اس دعوت میں شریک ہوئے۔جب سب لوگ کھانا کھا چکے تو آپ نے کھڑے ہو کر تقریر کرنا چاہی مگر ابو لہب نے ان سب لوگوں کو منتشر کر دیا اور وہ آپ کی بات سنے بغیر اپنے گھروں کو چلے گئے۔آپ بہت حیران ہوئے کہ یہ اچھے لوگ ہیں جو دعوت کھا کر تبھی بات نہیں سنتے مگر آپ مایوس نہیں ہوئے بلکہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ دوبارہ ان کی دعوت کی جائے۔چنانچہ دوبارہ ان سب کو کھانے پر مدعو کیا گیا۔جب وہ سیر ہو کر کھا چکے تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ تم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنا نبی تمہارے اندر بھیجا ہے۔میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔اگر تم میری بات مانو گے تو تم دینی اور دنیوی نعماء کے وارث قرار پاؤ گے۔کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس کام میں میر امددگار بنے ؟ یہ سن کر ساری مجلس پر سناٹے کی سی حالت طاری ہو گئی۔مگر یکلخت ایک کونے سے ایک نو عمر بچہ اٹھا اور اس نے کہا کہ گو میں ایک کمزور ترین فرد ہوں اور عمر میں سب سے چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔یہ بچے حضرت علی تھے جنہوں نے اس وقت اسلام کی تائید کا اعلان کیا۔795 حضرت علی کی قربانی کا واقعہ جو آنحضرت علی علم کی ہجرت کے وقت حضرت علی نے دی۔اس کا بھی ذکر اس طرح ملتا ہے کہ : اہل مکہ نے باہم مشورہ کر کے جب رسول اکرم صلی علیکم کے گھر پر حملہ آور ہو کر آپ کو قید کرنے یا قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو وحی الہی سے آپ کو دشمنوں کے اس ارادے کی اطلاع ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت مدینہ کی اجازت مرحمت فرمائی تو آپ نے ہجرت کی تیاری کی اور حضرت علی کو ارشاد فرمایا کہ وہ آج کی رات آنحضرت صلی علیم کے بستر پر لیٹیں۔حضرت علی نے رسول اللہ صلی الم کی وہی سرخ حضر هی چادر اوڑھ کر رات گزاری جس میں آپ سویا کرتے تھے۔796 مشرکین کا وہ گروہ جو کہ رسول اللہ صلی الیکم کی گھات لگائے ہوئے بیٹھا تھا وہ صبح کے وقت رسول اللہ صلی ا و و م کے گھر میں داخل ہوا اور حضرت علی بستر سے اٹھے۔جب وہ حضرت علی کے قریب ہوئے تو ان لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور پوچھا تمہارا سا تھی کہاں ہے ؟ آنحضرت صلی علیکم کے بارے میں پوچھا۔حضرت علی نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔کیا میں رسول اللہ صلی علی کم پر نگران تھا؟ تم نے انہیں مکے سے نکل